'ویڈیو گیمز یادداشت بہتر بناتے ہیں'؛ 20 سال کی تحقیق میں حیران کن انکشاف

ویڈیو گیمز کو عموماً صرف تفریح کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، لیکن ایک نئی سائنسی تحقیق نے ان کے ایک مثبت پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے انتہائی دلچسپ انکشاف کیا ہے۔ 20 برس پر محیط تحقیقی جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ ویڈیو گیمز کھیلنے والے افراد بعض ذہنی صلاحیتوں، خصوصاً یادداشت، میں دوسروں کے مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔

طبی تحقیقات سے متعلق ویب سائٹ میڈیکل ایکسپریس کے مطابق، محققین نے جنوری 2005 سے اگست 2025 کے درمیان شائع ہونے والی متعدد تحقیقات کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ اس دوران محققین نے ویڈیو گیمز کے انسانی دماغ پر اثرات کو جانچنے کے لیے مختلف مطالعات کے نتائج کا موازنہ کیا۔ اس تحقیق کا مقصد یہ جاننا تھا کہ آیا ویڈیو گیمز واقعی ذہنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں یا نہیں۔

اس طویل المدت تحقیق نے یہ ثابت کیا ہے کہ ویڈیو گیمز محض وقت گزاری یا تفریح کا ذریعہ نہیں، بلکہ یہ انسانی دماغ کو فعال رکھنے اور یادداشت کو تیز کرنے میں ایک اہم معاون کے طور پر ابھری ہیں۔

تحقیق کے مطابق ویڈیو گیمز اور ذہنی صلاحیتوں کے درمیان ایک محدود لیکن شماریاتی طور پر اہم مثبت تعلق پایا گیا۔ سب سے نمایاں فائدہ یادداشت کے شعبے میں دیکھا گیا، جہاں گیمز کھیلنے والے افراد نے یادداشت کے مختلف ٹیسٹوں میں نسبتاً بہتر نتائج حاصل کیے۔

محققین کا کہنا ہے کہ ویڈیو گیمز کھیلنے کے دوران مسلسل معلومات کو یاد رکھنا، مختلف واقعات پر نظر رکھنا، تیزی سے فیصلے کرنا اور حکمت عملی ترتیب دینا پڑتی ہے۔

بار بار ان مراحل سے گزرنے کے باعث کھلاڑیوں کی یادداشت کی مہارتیں مضبوط ہو جاتی ہیں، جو کہ ایک قسم کی قدرتی ”ذہنی تربیت“ ہے۔ بعض گیمز میں بیک وقت کئی چیزوں پر توجہ مرکوز رکھنی پڑتی ہے، جو دماغ کو متحرک رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

تحقیقاتی ٹیم نے اس جائزے کے دوران تین مختلف اقسام کے تجزیے کیے، جن میں کھلاڑیوں اور غیر کھلاڑیوں کا موازنہ، مختلف تجرباتی مطالعات اور ویڈیو گیمز کھیلنے کے دورانیے اور ذہنی صلاحیتوں کے درمیان تعلق کا جائزہ شامل تھا۔ محققین نے پانچ اہم ذہنی شعبوں یعنی یادداشت، مکانی صلاحیتوں، بصری توجہ، شناختی کنٹرول اور ذہانت پر خصوصی توجہ دی۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ ویڈیو گیمز کھیلنے والے افراد نے مکانی صلاحیتوں، بصری توجہ، شناختی کنٹرول اور ذہانت کے بعض ٹیسٹوں میں بھی نسبتاً بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اگرچہ ان شعبوں میں بہتری معمولی تھی، تاہم یادداشت وہ واحد شعبہ تھا جس میں نمایاں اور قابلِ ذکر مثبت اثرات دیکھنے میں آئے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تمام ویڈیو گیمز ایک جیسے نتائج نہیں دیتیں کیونکہ مختلف تحقیقات میں استعمال ہونے والی گیمز کی اقسام، شرکاء کی عمریں اور تحقیق کے طریقہ کار بھی ایک دوسرے سے مختلف تھے۔ بعض مطالعات میں ایکشن گیمز شامل تھیں جبکہ کچھ میں دماغی تربیت اور فٹنس سے متعلق گیمز کا جائزہ لیا گیا، جس کی وجہ سے نتائج میں بھی معمولی اختلاف دیکھا گیا۔

محققین نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگرچہ نتائج حوصلہ افزا ہیں، لیکن یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ ویڈیو گیمز روزمرہ زندگی کی تمام ذہنی صلاحیتوں کو نمایاں طور پر بہتر بنا سکتی ہیں۔ ان کے مطابق اس بات کی تصدیق کے لیے مزید طویل المدتی تحقیقات کی ضرورت ہے کہ یہ فوائد کتنے عرصے تک برقرار رہتے ہیں اور روزمرہ زندگی میں کس حد تک مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

ماہرین صحت کے مطابق ویڈیو گیمز کا اعتدال کے ساتھ استعمال ذہنی سرگرمیوں کے لیے مفید ہو سکتا ہے، تاہم اس کے ساتھ متوازن غذا، مناسب نیند، جسمانی سرگرمی اور اسکرین ٹائم پر قابو رکھنا بھی نہایت ضروری ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر ویڈیو گیمز کو متوازن طرزِ زندگی کا حصہ بنایا جائے تو یہ نہ صرف تفریح فراہم کر سکتی ہیں بلکہ بعض ذہنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles