ٹرمپ کی پوسٹس تک سب سے پہلے رسائی کے لیے ماہانہ 1 لاکھ ڈالر فیس وصول کرنے کا منصوبہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سوشل میڈیا کمپنی ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ (ٹی ایم ٹی جی) نے وال اسٹریٹ کے سرمایہ کاروں، ٹریڈنگ فرموں اور مالیاتی اداروں کو ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹس تک عام صارفین کے مقابلے میں زیادہ تیز رسائی فراہم کرنے کے لیے ایک نئی سروس متعارف کرانے کا منصوبہ بنایا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس منصوبے کے تحت کمپنی بعض اداروں سے ہر ماہ ایک لاکھ ڈالر تک فیس لینے پر بات چیت کر رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق کمپنی نے تین سالہ معاہدہ کرنے والے اداروں کے لیے رعایتی پیکیج بھی پیش کیا ہے، جس کے تحت ماہانہ فیس 60 ہزار ڈالر ہوگی۔ یہ معلومات ایسے افراد نے فراہم کی ہیں جو ان مذاکرات سے واقف ہیں، تاہم چونکہ بات چیت خفیہ ہے اس لیے انہوں نے اپنی شناخت ظاہر نہیں کی۔

ٹرمپ میڈیا نے جمعرات کو ”ٹروتھ اے پی آئی“ کے نام سے ایک نئی سروس کا اعلان کیا، جس کے ذریعے بینکوں اور ٹریڈنگ کمپنیوں کو ٹروتھ سوشل پر موجود 10 اہم اکاؤنٹس کی پوسٹس سب سے پہلے اور تیز رفتار انداز میں فراہم کی جائیں گی۔ کمپنی نے اس سروس کی قیمتوں کی تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم بتایا کہ یہ سروس یکم اگست سے شروع کی جائے گی اور اس کے لیے پہلے ہی کچھ صارفین رجسٹر ہو چکے ہیں، اگرچہ ان کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔

یہ سروس کمپنی کے لیے ڈیٹا لائسنسنگ کے شعبے میں پہلا قدم سمجھی جا رہی ہے، جس سے اسے آمدنی کا نیا ذریعہ حاصل ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس اعلان پر سیاسی حلقوں میں بحث بھی شروع ہو گئی ہے۔

امریکی سینیٹ کی مالیاتی کمیٹی کے سینئر ڈیموکریٹ رکن رون وائیڈن نے اس منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ٹرمپ خاندان کو مالی فائدہ پہنچے گا جبکہ وال اسٹریٹ کے سرمایہ کار مزید منافع کما سکیں گے۔ وائٹ ہاؤس سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو اس نے تبصرے کے لیے معاملہ ٹرمپ میڈیا کے حوالے کر دیا، جبکہ کمپنی نے فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

مالیاتی ماہرین کے مطابق ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹس اکثر امریکی اسٹاک مارکیٹ پر فوری اثر ڈالتی ہیں۔ مثال کے طور پر 9 اپریل 2025 کو ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے کئی نئے ٹیرف 90 دن کے لیے معطل کر رہے ہیں، جس کے بعد وال اسٹریٹ کے بڑے انڈیکس میں نمایاں تیزی دیکھی گئی تھی۔

مارکیٹ میں ہائی فریکوئنسی ٹریڈنگ کرنے والی کمپنیاں انتہائی کم وقت میں خرید و فروخت کے فیصلے کرتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی ادارے کو صرف چند ملی سیکنڈ پہلے معلومات مل جائیں تو بڑے سودوں میں اسے لاکھوں ڈالر کا اضافی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے ٹروتھ اے پی آئی جیسی سروس ان اداروں کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ نئی سروس میں نہ صرف اہم اکاؤنٹس کی چوبیس گھنٹے نگرانی کی جائے گی بلکہ 2022 سے اب تک کی پوسٹس کا ریکارڈ بھی دستیاب ہوگا۔

ٹروتھ سوشل پر سب سے زیادہ فالو کیے جانے والے اکاؤنٹس میں خود ڈونلڈ ٹرمپ، ان کے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر اور ایرک ٹرمپ کے علاوہ ان کے قریبی حامی ڈین بونجینو اور شان ہینیٹی بھی شامل ہیں۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق ڈونلڈ جے ٹرمپ ریووکیبل ٹرسٹ کے پاس ٹرمپ میڈیا کے تقریباً 11 کروڑ 47 لاکھ 50 ہزار شیئرز موجود ہیں، جو کمپنی کے مجموعی شیئرز کا تقریباً 41 فیصد بنتے ہیں۔ اس ٹرسٹ کی نگرانی ٹرمپ کے بچے کرتے ہیں، تاہم اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کے اصل فائدہ اٹھانے والے ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ سوال اہم ہے کہ آیا حکومتی پالیسیوں سے متعلق اعلانات کے ذریعے کاروباری فائدہ حاصل کرنا اخلاقی طور پر درست ہے یا نہیں۔ غیرجانبدار نگرانی کرنے والی تنظیم ”سٹیزنز فار رسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن“ کے صدر ڈونلڈ شرمین نے کہا کہ صدر کی پوسٹس تک جلد رسائی کے بدلے رقم لینا وسیع پیمانے پر غیر اخلاقی عمل قرار دیا جا سکتا ہے، تاہم موجودہ عوامی معلومات کی بنیاد پر یہ واضح نہیں کہ یہ غیر قانونی بھی ہے یا نہیں۔

شرمین کے مطابق امریکی آئین کی وہ شقیں، جن کا مقصد سرکاری عہدیداروں کو غیر مناسب مالی فوائد سے روکنا ہے، اس معاملے پر براہ راست لاگو نہیں ہوتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ قوانین اس صورتحال کو واضح طور پر مدنظر رکھ کر نہیں بنائے گئے تھے، جہاں کسی صدر کی مارکیٹ پر اثر انداز ہونے والی معلومات تک تیز رسائی فروخت کی جا رہی ہو۔

سینیٹ کی بینکنگ کمیٹی کی سینئر ڈیموکریٹ رکن الزبتھ وارن نے بھی اس منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے اسے ایسا طریقہ قرار دیا جس سے صدارت کے عہدے سے مالی فائدہ اٹھایا جا رہا ہے اور وال اسٹریٹ کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جبکہ عام امریکیوں کو اس سے کوئی براہ راست فائدہ نہیں ہوگا۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ صدر ٹرمپ کے کاروباری معاملات ان کے بچوں کی نگرانی میں چلائے جا رہے ہیں، تاہم ٹرسٹ سے حاصل ہونے والی آمدنی کے حتمی فائدہ اٹھانے والے خود صدر ٹرمپ ہیں۔

رواں سال کے دوران ٹرمپ میڈیا کے شیئرز کی قیمت میں تقریباً 27 فیصد کمی آ چکی ہے۔ جمعہ کے روز کمپنی کا شیئر تقریباً بغیر کسی بڑی تبدیلی کے 9.66 ڈالر پر بند ہوا، جس کے بعد کمپنی کی مجموعی مارکیٹ مالیت تقریباً 2.7 ارب ڈالر رہی۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles