
فیفا ورلڈ کپ 2026 کے سیمی فائنل میں انگلینڈ کی ڈرامائی شکست کے بعد انگلینڈ کے کپتان ہیری کین اور ٹیم کے مینیجر تھامس ٹوخل پر کڑی تنقید کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ جرمنی کے مشہور اور مایہ ناز سابق گول کیپر اولیور کان نے ہیری کین کے کھیل اور ٹیم کی حد سے زیادہ دفاعی حکمت عملی کو اس شکست کا بڑا ذمہ دار ٹھہرادیا۔ جس کی بھاری قیمت اسے فائنل سے باہر ہو کر چکانی پڑی۔
اس اہم میچ میں انگلینڈ کی ٹیم کھیل کے 85 ویں منٹ تک 0-1 سے آگے تھی اور جیت کے بالکل قریب تھی، لیکن ارجنٹائن نے آخری لمحات میں صرف آٹھ منٹ کے اندر دو گول کر کے میچ کا پانسہ پلٹ دیا اور 1-2 سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے فائنل میں جگہ بنا لی۔ اس اچانک ہار کے بعد دنیا بھر میں انگلینڈ کی کارکردگی پر بحث شروع ہو گئی ہے۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق جرمنی کو 1996 میں یورپی چیمپئن بنانے والے اولیور کان نے میچ کے بعد ایک اسپورٹس پروگرام میں ہیری کین کے کھیل پر کھلے عام سوال اٹھائے۔
ان کا کہنا تھا کہ، ہیری کین کا مسئلہ یہ ہے کہ جب وہ پیرس سینٹ جرمین (پی ایس جی) جیسی حملہ آور ٹیموں کے خلاف کھیلتے ہیں تو بعض اوقات بہت سست اور ضرورت سے زیادہ دفاعی ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ میچ کے 60ویں منٹ تک ہیری کین کی طرف سے ارجنٹینا کے دفاعی کھلاڑیوں پر دباؤ ڈالنے کی کوئی کوشش نظر نہیں آئی۔
اولیور کان نے صرف کپتان کو ہی نشانہ نہیں بنایا بلکہ انگلینڈ کے مینیجر تھامس ٹوخل کے فیصلوں پر بھی شدید برہمی کا اظہار کیا۔ ان کا ماننا تھا کہ گول کرنے کے بعد ٹیم کو ضرورت سے زیادہ پیچھے دھکیلنا ایک بڑی غلطی تھی۔
اولیور کان نے اس پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ہاف میں میسی کے پاس کھیلنے کے لیے زیادہ جگہ نہیں تھی، لیکن دوسرے ہاف کے آخری لمحات میں انگلینڈ نے میچ پر سے اپنا کنٹرول کھو دیا۔ انہوں نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا، ”جب آپ برتری حاصل کیے ہوئے تھے تو پھر اپنے 10 کھلاڑیوں کو پینلٹی باکس کے اندر کیوں کھڑا کر دیا؟“
واضح رہے کہ انگلینڈ نے کھیل کے55ویں منٹ میں گورڈن کے گول کی بدولت برتری حاصل کی تھی اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ٹیم 1966 کے بعد پہلی مرتبہ ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ تاہم میچ کے آخری آٹھ منٹوں میں تھامس ٹوخل نے جارحانہ انداز اپنانے کے بجائے مزید دفاعی کھلاڑی میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا۔
ٹوخل نے پہلے گول اسکور کرنے والے انتھونی گورڈن کو باہر بٹھا کر دفاعی کھلاڑی ایزری کونسا کو میدان میں بھیجا۔ اس کے بعد ڈین برن اور نیکو او ریلی کو بھی متبادل کھلاڑی کے طور پر شامل کیا گیا۔ اگرچہ کوچ نے میچ کے اختتامی لمحات میں دو جارح مزاج تبدیلیاں بھی کیں، لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔
ارجنٹائن نے میچ کے آخری لمحات میں زبردست کم بیک کرتے ہوئے 85ویں منٹ میں اینزو فرنانڈیز کے گول کی بدولت مقابلہ 1-1 سے برابر کر دیا۔ اس گول کی بنیاد لیونل میسی کے خوبصورت پاس نے رکھی تھی۔ اس کے بعد انجری ٹائم کے دوسرے منٹ میں میسی نے ایک اور شاندار کراس لاوتارو مارٹینیز کو دیا، جسے انہوں نے ہیڈر کے ذریعے گول میں تبدیل کر کے اپنی ٹیم کو 1-2 کی فیصلہ کن برتری دلا دی۔
اس فتح کے ساتھ ارجنٹائن مسلسل دوسری مرتبہ ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچ گیا ہے، جہاں اس کا مقابلہ اتوار کے روز نیو جرسی کے شہر ایسٹ ردرفورڈ میں اسپین سے ہوگا۔ اگر ارجنٹائن یہ فائنل جیتنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو وہ 1958 اور 1962 میں برازیل کے بعد مسلسل دو ورلڈ کپ جیتنے والی پہلی ٹیم بن جائے گا۔
دوسری جانب انگلینڈ کے لیے یہ شکست انتہائی مایوس کن ثابت ہوئی ہے۔ میچ کے بیشتر حصے میں برتری حاصل کرنے کے باوجود آخری چند منٹوں میں دفاعی حکمت عملی نے اس کے فائنل کھیلنے کے خواب کو چکنا چور کر دیا، جبکہ اولیور کان کی تنقید نے ہیری کین اور تھامس ٹوخل کی کارکردگی پر نئی بحث بھی چھیڑ دی ہے۔