جنگ کے دوران ایران کی جانب سے امریکی اہلکاروں کے فون ٹریک کرنے کا انکشاف: فنانشل ٹائمز

برطانوی اخبار ’فنانشل ٹائمز‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے جنگ کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اہلکاروں اور کنٹریکٹرز کے موبائل فونز کی لوکیشن معلوم کرنے کے لیے منظم کوششیں کیں۔ رپورٹ کے مطابق اس معاملے نے امریکی قانون سازوں میں فوجی اہلکاروں کی ڈیجیٹل سکیورٹی سے متعلق نئے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق برطانوی اخبار ’فنانشل ٹائمز‘ نے ٹیلی کمیونی کیشن ڈیٹا، سائبر سیکیورٹی ماہرین اور اس معاملے سے واقف حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے جنگ سے قبل اور دورانِ جنگ امریکی فوجی اہلکاروں اور کنٹریکٹرز کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے موبائل فون ٹریکنگ کی مربوط مہم چلائی۔

رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ٹیلی کام نیٹ ورکس نے متعدد ایسے سگنلز، جنہیں ایس ایس 7 پنگز کہا جاتا ہے، بلاک کیے۔ ان سگنلز کے ذریعے بیرونِ ملک رومنگ استعمال کرنے والے موبائل فونز کی ممکنہ جغرافیائی لوکیشن معلوم کی جا سکتی ہے۔ سائبر سہکیورٹی کے دو ماہرین نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ دستیاب شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کارروائیاں مخصوص موبائل فونز کو نشانہ بنانے کے لیے کی جا رہی تھیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ سرگرمیاں فروری کے آخر میں ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں سے قبل شروع ہوئیں اور جنگ کے ابتدائی دنوں تک جاری رہیں، جب ایران نے خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق خلیجی ممالک کے بعض حکام کو شبہ تھا کہ ایران یا اس کے اتحادیوں نے مقامی موبائل آپریٹرز کے رومنگ معاہدوں سے فائدہ اٹھا کر امریکی فوجی اہلکاروں اور کنٹریکٹرز کی موجودگی کا سراغ لگانے کی کوشش کی۔

رپورٹ میں ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران سے منسلک عناصر نے شمالی عراق کے نیم خودمختار کردستان خطے میں امریکی اہلکاروں کے موبائل فونز کی لوکیشن معلوم کرنے کے لیے تجارتی بنیادوں پر دستیاب اشتہاری ڈیٹا بیسز بھی استعمال کیے۔

سائبر سیکیورٹی ادارے سٹیزن لیب کے سینئر محقق گیری ملر نے ’فنانشل ٹائمز‘ سے گفتگو میں کہا کہ ایران کے پاس حقیقی وقت میں افراد کی لوکیشن حاصل کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ ان کے بقول اگر ایران خطے میں امریکی صارفین کی نگرانی کے لیے موبائل نیٹ ورکس تک رسائی یا ایس ایس 7 نظام استعمال کر رہا ہو تو اس پر حیرت نہیں ہونی چاہیے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اپریل میں کانگریس کو آگاہ کیا تھا کہ اسے ایسی متعدد اطلاعات موصول ہوئیں جن میں مخالف عناصر کی جانب سے تجارتی لوکیشن ڈیٹا استعمال کر کے امریکی اہلکاروں کی نگرانی یا انہیں نشانہ بنانے کی کوششوں کا ذکر تھا۔ تاہم سینٹ کام کا کہنا تھا کہ اس نے اپنے اہلکاروں کے تحفظ کے لیے ضروری حفاظتی اقدامات کیے ہیں۔

ایک امریکی عہدیدار نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ اب تک ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے ثابت ہو کہ موبائل فونز کی لوکیشن سے حاصل ہونے والا ڈیٹا کسی حملے میں فیصلہ کن طور پر استعمال ہوا ہو۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران پر یہ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس نے تجارتی اشتہاری ٹیکنالوجی کے ذریعے ان ہوٹلوں کی نشاندہی کرنے کی کوشش کی جہاں امریکی سرکاری ملازمین اور کنٹریکٹرز قیام پذیر تھے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے اسمارٹ فونز کو مخصوص اشتہاری شناختی نمبروں کی بنیاد پر ٹریک کیا جا سکتا ہے، بغیر اس کے کہ فون خود ہیک کیا جائے۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق امریکی سینیٹر رون وائیڈن نے کہا کہ وہ کئی برسوں سے مختلف امریکی حکومتوں کو تجارتی لوکیشن ڈیٹا سے پیدا ہونے والے قومی سلامتی کے خطرات سے آگاہ کرتے رہے ہیں، جب کہ ریپبلکن رکن کانگریس پیٹ ہیریگن نے مطالبہ کیا کہ ایسی قانون سازی کی جائے جس کے تحت ٹیکنالوجی کمپنیاں سرکاری ملازمین کی لوکیشن سے متعلق معلومات فروخت نہ کر سکیں۔

ادھر لندن میں ایرانی سفارت خانے نے فنانشل ٹائمز کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles