ایران کے قطر، کویت، بحرین اور اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر بڑے میزائل اور ڈرون حملے

ایران نے اتوار کی صبح قطر، کویت، بحرین اور اردن میں قائم امریکی فوج کے اڈوں پر بیلسٹک میزائلوں اور بارود سے بھرے ڈرونز کی برسات کر دی ہے۔

ایران نے قطر، کویت، بحرین اور اردن میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر بیلسٹک میزائلوں اور بارود سے بھرے ڈرونز سے حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی امریکی حملوں کے جواب میں کی گئی، جبکہ قطر نے کہا ہے کہ اس کی فضائی دفاعی نظام نے اپنی حدود کی جانب آنے والے ایک میزائل کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اتوار کی صبح قطر، کویت، بحرین اور اردن میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ حملے ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں اور مواصلاتی تنصیبات پر امریکا کی جانب سے مبینہ بمباری کے جواب میں کیے گئے ہیں۔

پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ قطر میں واقع امریکی فضائی اڈے العدید کو خطرناک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، جہاں جنگی طیاروں کی مرمت کے مرکز اور کمانڈ اینڈ کنٹرول روم کو تباہ کر دیا گیا۔

تاہم قطر کی وزارتِ دفاع نے ایران کے اس دعوے کی مکمل تصدیق نہیں کی۔ وزارتِ دفاع کے مطابق قطری مسلح افواج نے ملک کی فضائی حدود کی جانب آنے والے ایک میزائل کو کامیابی سے فضا میں ہی تباہ کر دیا، جس کے باعث کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

دوسری جانب ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ایرانی فوج نے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات پر بھی ڈرون حملے کیے۔ ایرانی دعوے کے مطابق کویت میں امریکی پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام، اسلحہ گودام اور ریڈار مرکز کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ بحرین میں امریکی فوج کے ریڈار اور مواصلاتی نظام پر حملہ کیا گیا۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اردن میں واقع پرنس حسن ایئربیس پر کئی بیلسٹک میزائل داغے گئے۔ ایرانی بیان کے مطابق اس حملے میں کمانڈ سینٹر اور وہ ہینگرز نشانہ بنائے گئے جہاں امریکی ساختہ ایم کیو-9 ڈرون طیارے موجود تھے۔

ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے مزید فوجی کارروائی کی تو اس کا پہلے سے زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔

دوسری جانب ایران کے ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ قطر کے علاوہ دیگر متعلقہ ممالک اور امریکی حکام کی جانب سے فوری طور پر ان حملوں یا نقصانات سے متعلق کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔

ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد ان دعوؤں نے پورے خطے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، جبکہ صورتحال پر عالمی برادری کی گہری نظر ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles