
چین کی ایک عدالت نے تقریباً 30 برس کے دوران 2.2 ارب یوان (تقریباً 32 کروڑ 50 لاکھ ڈالر) سے زائد مالیت کی رشوت لینے والے سابق سرکاری افسر یانگ یولن کو سزائے موت سنا دی ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے نے چینی سرکاری میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے تبایا کہ 69 سالہ یانگ یولن نے 1993 سے 2023 تک نانجنگ شہر میں مختلف اہم سرکاری عہدوں پر کام کیا۔ اس دوران انہوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگوں کو انجینئرنگ کے ٹھیکے، زمین کی منتقلی اور مالی سہولتیں دلوانے کے بدلے بھاری رقوم اور قیمتی تحائف وصول کیے۔
عدالت نے یانگ یولن کو رشوت لینے کے علاوہ سرکاری خزانے میں خرد برد، اختیارات کے ناجائز استعمال اور منی لانڈرنگ کے جرائم میں بھی قصوروار قرار دیا۔
حکام کے مطابق ان کی غیر قانونی کمائی حالیہ برسوں میں سامنے آنے والے سب سے بڑے مالیاتی کرپشن کیسز میں شمار ہوتی ہے۔
مشرقی چین کے شہر چانگژو کی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یانگ یولن کے جرائم انتہائی سنگین نوعیت کے تھے اور ان کی وجہ سے ریاست اور عوام کے مفادات کو غیر معمولی نقصان پہنچا۔
یانگ یولن کے خلاف تحقیقات صدر شی جن پنگ کی جانب سے شروع کی گئی انسدادِ بدعنوانی مہم کے تحت کی گئیں۔ یہ مہم فوج، بینکاری اور دیگر اہم شعبوں تک پھیل چکی ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ اس مہم کو بعض اوقات سیاسی مخالفین کے خلاف بھی استعمال کیا جاتا ہے، تاہم چینی حکومت اس مہم کو بدعنوانی کے خاتمے کے لیے ضروری قرار دیتی ہے۔
چین میں مالی بدعنوانی جیسے وائٹ کالر جرائم پر سزائے موت کے فیصلے کم ہی سنائے جاتے ہیں، تاہم بہت بڑے مالیاتی جرائم میں عدالتیں یہ سزا دے سکتی ہیں، خاص طور پر جب رشوت یا خرد برد کی رقم ایک ارب یوان سے زیادہ ہو۔
اس سے قبل سابق مالیاتی ادارے کے سربراہ لائی شیاؤ من کو 2021 میں تقریباً 1.8 ارب یوان رشوت لینے کے جرم میں سزائے موت دے کر پھانسی دی گئی تھی۔
اسی طرح اندرونی منگولیا کے سابق سرکاری افسر لی جیان پنگ کو 2024 میں تین ارب یوان سے زائد کی خرد برد اور رشوت کے جرم میں سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا تھا۔
چین میں ایسے کئی مقدمات میں عدالتیں عمر قید یا معطل سزائے موت بھی سناتی ہیں، جو مقررہ مدت کے بعد عمر قید میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ بعض مقدمات میں اگر ملزم دوسرے مجرموں کے بارے میں معلومات فراہم کرے تو سزا میں کمی بھی کی جاتی ہے۔
عدالت کے مطابق یانگ یولن نے بھی تفتیش کے دوران حکام سے تعاون کیا، لیکن ان کے جرائم اتنے سنگین تھے کہ یہ تعاون سزا میں نرمی کے لیے کافی نہیں سمجھا گیا۔
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق یانگ یولن نے عدالت میں اپنے جرائم کا اعتراف کیا اور اپنے آخری بیان میں ندامت کا اظہار بھی کیا۔