
بھارت کے شہر ممبئی میں موسلا دھار بارشوں نے تباہی مچا دی جس کے نتیجے میں 15 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ریاست مہاراشٹر میں مون سون کی شدید بارشوں کا سلسلہ پیر کے روز بھی جاری رہا، جس کے باعث ریاستی دارالحکومت ممبئی سمیت مختلف علاقوں میں معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے، جبکہ گزشتہ تین سے چار روز کے دوران بارش سے متعلق مختلف حادثات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 15 ہو گئی ہے۔
بھارتی حکام کے مطابق تازہ ترین واقعے میں ضلع پونے میں پیر کی صبح لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ایک گھر ملبے تلے دب گیا، جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے دو افراد جان کی بازی ہار گئے۔
اسی ضلع میں ایک اور شخص سیلابی پانی سے بھرے راستے سے گزرتے ہوئے بہہ گیا، جس کی موت کی بھی تصدیق کر دی گئی۔
مسلسل موسلا دھار بارش اور تیز ہواؤں نے ممبئی اور پونے میں معمول کی زندگی مفلوج کر دی ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ممبئی میٹروپولیٹن ریجن اور پونے میٹروپولیٹن ریجن میں 200 سے 250 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث کئی سڑکیں زیرِ آب آگئیں، ٹریفک شدید متاثر ہوئی اور روزمرہ سرگرمیاں معطل ہو گئیں۔
ریاست کے وزیرِ اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے صورتحال پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ممبئی میں جولائی کے پورے مہینے میں ہونے والی اوسط بارش صرف چار دن میں ریکارڈ کی گئی ہے۔
بھارتی محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق ممبئی کے قریب واقع سیاحتی مقام لوناولا میں سب سے زیادہ 625 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ ضلع پونے کے تامہنی گھاٹ میں 589 ملی میٹر اور ضلع ستارا کے مہابلیشور میں 513 ملی میٹر بارش ہوئی، جو غیر معمولی سمجھی جا رہی ہے۔ بعض علاقوں میں گزشتہ تین سے چار روز کے دوران مجموعی طور پر 800 سے ایک ہزار ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی۔
بھارتی محکمہ موسمیات نے ممبئی، تھانے اور رائے گڑھ کے لیے ریڈ الرٹ جاری کرتے ہوئے مزید شدید سے انتہائی شدید بارش اور تیز ہواؤں کی پیش گوئی کی ہے۔
دوسری جانب ممبئی۔پونے ایکسپریس وے پر حال ہی میں کھولے گئے ”مسنگ لنک“ حصے میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ٹریفک بری طرح متاثر ہوئی، جس سے گاڑیوں کی آمدورفت کئی گھنٹوں تک سست روی کا شکار رہی۔
شدید بارشوں کے پیشِ نظر ممبئی، پالگھر، تھانے، رائے گڑھ اور پونے سمیت مختلف اضلاع سے ایک ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ حکام نے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف) اور اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) کی ٹیموں کو مختلف مقامات پر الرٹ رکھا ہے۔