
ملک میں قدرتی آفتوں سے نمٹنے کے سرکاری ادارے ’نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی‘ (این ڈی ایم اے) نے چھ سے دس جولائی تک ملک کے مختلف حصوں میں بارشوں کے بارے میں ایک اہم الرٹ جاری کیا ہے۔
سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ کشمیر، اسلام آباد، بالائی خیبر پختونخوا اور شمالی پنجاب کے علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ اس کے ساتھ ہی سات جولائی سے شمالی علاقوں، پنجاب، خیبر پختونخوا اور شمالی بلوچستان میں یہ بارشیں مزید تیز ہو جائیں گی، جس کے باعث دریائے سندھ، جہلم، چناب، راوی اور ستلج کے پانی کے بہاؤ میں تھوڑا بہت اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
تاہم، محکمے نے عوام کو تسلی دی ہے کہ فی الحال کسی بڑے پیمانے پر دریائی سیلاب کا کوئی خطرہ موجود نہیں ہے۔
دوسری طرف، محکمہ موسمیات کے ماہرین نے صوبوں کے لحاظ سے بدلتے ہوئے موسم کا احوال بتاتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ٹھنڈی ہواؤں اور بادلوں کی انٹری ہو چکی ہے، جس سے حبس اور شدید گرمی کا زور ٹوٹ گیا ہے۔
لاہور میں ہوا تیرہ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہے اور ہوا میں نمی کا تناسب انہتر فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے شہر میں آج بھی بارش کی قوی امید ہے۔
صوبہ خیبر پختونخوا کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ وہاں کے زیادہ تر حصوں میں موسم گرم رہے گا لیکن مالم جبہ، سوات، سیدو شریف، دیر، ہزارہ اور ملاکنڈ ڈویژن کے کچھ علاقوں میں مطلع ابر آلود رہنے اور ہواؤں کے ساتھ بارش کا امکان ہے، جبکہ صوبے کے جنوبی اضلاع میں گرمی مزید بڑھ سکتی ہے۔
بلوچستان کے موسم کی بات کی جائے تو محکمہ موسمیات کے حکام نے بتایا ہے کہ صوبے کے بیشتر اضلاع میں سورج آگ برسا رہا ہے اور موسم شدید گرم اور خشک رہے گا۔
صوبے کے مختلف شہروں کا حال بتاتے ہوئے سرکاری اہلکاروں نے ریکارڈز جاری کیے ہیں جن کے مطابق سبی میں درجہ حرارت سب سے زیادہ یعنی 49 ڈگری اور تربت میں 47 ڈگری تک جا پہنچا ہے، جس نے لوگوں کو بے حال کر دیا ہے۔
اسی طرح نوکنڈی میں 46، چمن میں چالیس، کوئٹہ میں 38، ژوب میں 37 اور قلات میں 34 ڈگری درجہ حرارت ریکارڈ ہوا ہے، جبکہ زیارت میں درجہ حرارت 30 ڈگری رہا۔
ساحلی علاقوں گوادر میں 24 اور جیوانی میں 35 ڈگری سینٹی گریڈ کے ساتھ موسم کچھ بہتر رہا۔
ان سب اضلاع میں جہاں شدید لو چل رہی ہے، وہاں لوگ گرمی کے ستائے ہوئے ہیں اور کچھ علاقوں کے لوگ آسمان کی طرف برسات کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔