
یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دوبارہ یمن کی فضائی حدود میں مداخلت کی گئی یا ایرانی طیاروں کی آمد میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی گئی تو سعودی عرب کے ایئرپورٹس، اہم تنصیبات اور حساس مقامات کو نشانہ بنایا جائے گا۔
حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ سعودی عرب کو یمن کی فضائی حدود میں مداخلت کی کسی بھی کوشش سے باز رہنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی کسی بھی کارروائی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ حوثیوں نے سعودی جنگی طیاروں کی جانب سے یمن کی فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش ناکام بنا دی۔ ان کے مطابق اس کارروائی کا مقصد ایک ایرانی شہری طیارے کو صنعا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر لینڈنگ سے روکنا تھا۔
انہوں نے کہا کہ مذکورہ طیارے میں 200 سے زائد زخمی، بیمار اور مختلف وجوہات کی بنا پر پھنسے ہوئے یمنی شہری سوار تھے، جنہیں واپس وطن لایا جا رہا تھا۔
دوسری جانب حوثی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ طیارہ بعد ازاں تہران واپس چلا گیا، جس میں وہ حوثی وفد بھی سوار تھا جو ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں شرکت کے لیے روانہ ہونا چاہتا تھا۔
حوثیوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کے جنگجو ہر ممکن آپشن کے لیے تیار ہیں اور سعودی-امریکی محاصرے کو توڑنے کے لیے جاری کیے جانے والے احکامات پر عمل درآمد کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
یہ تازہ دھمکیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب گزشتہ چند ماہ کے دوران سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان نسبتاً کشیدگی میں کمی دیکھی گئی تھی۔ مئی میں دونوں فریقوں نے قیدیوں کے سب سے بڑے تبادلے پر اتفاق کیا تھا، جس میں سات سعودی شہری بھی شامل تھے۔
واضح رہے کہ یمن میں 2015 سے حوثی باغیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومت کے درمیان جاری جنگ میں لاکھوں افراد متاثر ہو چکے ہیں، جبکہ اس تنازع نے ملک میں سنگین انسانی بحران کو جنم دیا ہے۔