
بھارت کی مرکزی حکومت نے واٹس ایپ چلانے والی بڑی کمپنی میٹا کو ہدایت دی ہے کہ وہ واٹس ایپ کا نیا ”یوزر نیم“ فیچر فی الحال ملک میں متعارف نہ کرائے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس فیچر سے صارفین کی پرائیویسی اور سائبر سکیورٹی پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، اس کا مکمل جائزہ لینے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔
اس حوالے سے بھارتی حکام نے میٹا انڈیا کے چیف کمپلائنس آفیسر کو نوٹس بھی جاری کیا ہے اور تین روز کے اندر تفصیلی جواب طلب کیا ہے۔
واٹس ایپ کے اس نئے فیچر پر انٹرنیٹ پر بھی بحث جاری ہے۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس سے صارفین کی ذاتی معلومات زیادہ محفوظ رہیں گی، جبکہ بعض لوگوں کو خدشہ ہے کہ یہ فیچر سائبر جرائم اور آن لائن فراڈ میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
اب تک واٹس ایپ استعمال کرنے کے لیے کسی بھی شخص سے رابطہ کرنے کی خاطر فون نمبر شیئر کرنا ضروری ہوتا تھا۔ چاہے وہ کوئی نیا دوست ہو، دفتر کا ساتھی ہو یا محلے کا کوئی فرد، واٹس ایپ پر بات کرنے کے لیے فون نمبر دینا لازمی تھا۔ لیکن اس نئے فیچر کے آنے سے لوگ اپنا ایک خاص نام رکھ سکیں گے اور بغیر نمبر بتائے بھی ایک دوسرے سے واٹس ایپ پر جڑ سکیں گے، بالکل ویسے ہی جیسے ٹیلی گرام یا انسٹاگرام پر ہوتا ہے۔
واٹس ایپ کے مطابق اس وقت صارفین صرف اپنی پسند کا یوزر نیم محفوظ کر سکتے ہیں، جبکہ اس کا مکمل استعمال مرحلہ وار رواں سال کے دوران شروع کیا جائے گا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ فیچر پرائیویسی میں بہتری کے لیے بنایا گیا ہے، لیکن اس کے غلط استعمال کا امکان بھی موجود ہے۔
حکام کے مطابق اگر فون نمبر کی بجائے صرف یوزر نیم نظر آئے گا تو جعلساز مشہور شخصیات، سرکاری اداروں یا معروف افراد کے نام سے ملتے جلتے یوزر نیم بنا کر لوگوں کو دھوکہ دے سکتے ہیں۔ ایسے وقت میں جب بھارت میں آن لائن فراڈ اور ڈیجیٹل دھوکہ دہی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، حکومت اس فیچر کو احتیاط سے دیکھنا چاہتی ہے۔
معروف بھارتی فنانس انفلوئنسر انکور واریکو نے بھی اس حوالے سے خدشات ظاہر کیے ہیں۔ انہوں نے کہا، سوچیے اگر کوئی میرے نام سے ملتا جلتا نقلی نام بنا کر لوگوں سے پیسے مانگنے لگے تو کتنا بڑا دھوکہ ہو سکتا ہے۔
ایک اور ماہر جسویر سنگھ کا کہنا تھا کہ اس فیچر سے واٹس ایپ بھی ٹیلی گرام جیسا بن جائے گا، جہاں کوئی بھی نمبر جانے بغیر آپ کو میسج کر سکتا ہے اور یہ جگہ دھوکے بازوں کے لیے جنت بن جائے گی۔
دوسری جانب میٹا کا کہنا ہے کہ کمپنی نے ممکنہ خطرات کو کم کرنے کے لیے کئی حفاظتی اقدامات کیے ہیں۔ کمپنی کے مطابق مشہور شخصیات، سرکاری اداروں اور میٹا سے تصدیق شدہ اکاؤنٹس کے معروف یوزر نیم پہلے سے محفوظ رکھے جائیں گے تاکہ انہیں صرف اصل مالک ہی حاصل کر سکے۔
واٹس ایپ نے وضاحت کی ہے، ”ہم نے معروف شخصیات، سرکاری اداروں اور تصدیق شدہ اکاؤنٹس سے متعلق یوزر نیم اور ان کی مختلف شکلیں پہلے ہی محفوظ کر لی ہیں۔ اگر کوئی دوسرا شخص ایسے یوزر نیم لینے کی کوشش کرے گا تو سسٹم انہیں دستیاب نہیں دکھائے گا۔“
کمپنی نے مزید بتایا کہ اگر کوئی شخص پہلی مرتبہ یوزر نیم کے ذریعے رابطہ کرے گا تو صارف کو اس کے ملک کے بارے میں معلومات اور ایک وارننگ بھی دکھائی جائے گی۔ اس کے علاوہ ”یوزر نیم کی“ نامی ایک اضافی حفاظتی فیچر بھی دستیاب ہوگا، جس میں چار ہندسوں کا خصوصی کوڈ استعمال کیا جائے گا۔
اگر صارف یہ فیچر فعال کر دے تو صرف وہی شخص رابطہ کر سکے گا جس کے پاس یوزر نیم کے ساتھ یہ مخصوص کوڈ بھی موجود ہوگا۔ یعنی جب تک آپ سامنے والے کو وہ کوڈ نہیں بتائیں گے، وہ آپ کے نام پر میسج نہیں بھیج سکے گا۔
واٹس ایپ نے یہ بھی واضح کیا کہ سوشل میڈیا پر بعض افراد کے یہ دعوے غلط ہیں کہ انہوں نے پہلے ہی مشہور شخصیات کے یوزر نیم محفوظ کر لیے ہیں۔ کمپنی کے مطابق صرف اصل اور تصدیق شدہ اکاؤنٹ رکھنے والے افراد ہی ایسے یوزر نیم حاصل کر سکتے ہیں۔
ادھر انٹرنیٹ فریڈم فاؤنڈیشن نے بھارتی حکومت کے فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے نوٹس کی واضح قانونی بنیاد نظر نہیں آتی۔ قانون میں ایسا کوئی قاعدہ نہیں ہے جس کے تحت حکومت کسی کمپنی کو کوئی نیا فیچر لانے سے پہلے ہی روک دے۔ ان کا کہنا ہے کہ دھوکہ دہی کو روکنے کے لیے مجرموں کو پکڑنا چاہیے نہ کہ نئے طریقوں کو ہی بند کر دیا جائے۔
فاؤنڈیشن نے اپنے بیان میں کہا، ”ہمیں تشویش ہے کہ حکومت کسی کمپنی کو یہ بتانے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ کون سا فیچر متعارف کرا سکتی ہے اور کون سا نہیں، جبکہ موجودہ قانون میں ایسی کوئی واضح اجازت موجود نہیں۔“
فاؤنڈیشن کا کہنا تھا کہ جعلسازی اور دھوکہ دہی یقیناً حقیقی مسائل ہیں، لیکن ان سے نمٹنے کا طریقہ مجرموں کے خلاف قانون نافذ کرنا ہے، نہ کہ نئی ٹیکنالوجی یا فیچر کو پہلے ہی روک دینا۔
کلاؤڈ کمیونیکیشن پلیٹ فارم ہیلو اے آئی کے بانی وکرم رائچورا نے کہا، ”واٹس ایپ کے یوزر نیم سے متعلق سائبر سکیورٹی کے خدشات درست ہیں اور ان پر نظر رکھنا ضروری ہے، لیکن کمپنی نے خطرات کم کرنے کے لیے مناسب حفاظتی اقدامات بھی کیے ہیں۔ سرچ ایبل ڈائریکٹری نہیں ہوگی، یوزر نیم کی تجاویز نہیں دی جائیں گی اور کسی سے رابطے کے لیے اس کا درست یوزر نیم معلوم ہونا ضروری ہوگا۔“
سائبر سکیورٹی ماہر اور کلیراکون اے آئی کے منیجنگ پارٹنر مکُل کمار کا کہنا ہے کہ یہ فیچر بعض سائبر جرائم کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا، ”سم سویپ فراڈ اس وقت بھارت کے سب سے خطرناک سائبر جرائم میں شامل ہے۔ اگر لوگ اپنا فون نمبر کم شیئر کریں اور یوزر نیم کو اپنی بنیادی شناخت بنا لیں تو وقت کے ساتھ فون نمبر سائبر مجرموں کے لیے کم اہم ہدف بن سکتا ہے۔“
تاہم ابھی تک میٹا نے بھارتی حکومت کے نوٹس کا باضابطہ جواب جاری نہیں کیا تھا۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ حکومت اس فیچر کی اجازت دیتی ہے یا مزید شرائط عائد کرتی ہے، جبکہ دنیا کے دیگر ممالک میں اس فیچر کا مرحلہ وار آغاز متوقع ہے۔