
امریکی آٹو موبائل کمپنی ’فورڈ‘ نے اعتراف کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) گاڑیوں کے معیار کی جانچ میں انسانی ماہرین جیسی کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی، جس کے بعد کمپنی نے 300 سے زائد تجربہ کار انجینئرز اور کوالٹی انسپکٹرز کو دوبارہ ملازمت پر رکھ لیا ہے۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق فورڈ نے گزشتہ چند برسوں میں اپنے مختلف شعبوں، خصوصاً گاڑیوں کے معیار کی جانچ کے عمل میں مصنوعی ذہانت کا استعمال بڑھایا تھا۔ کمپنی کو امید تھی کہ اس ٹیکنالوجی سے اخراجات کم ہوں گے اور کام کی رفتار اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا، تاہم عملی نتائج توقعات کے مطابق نہیں نکلے۔
فورڈ کے نائب صدر برائے وہیکل ہارڈویئر انجینئرنگ چارلس پون نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ، مصنوعی ذہانت ایک شاندار ٹول ہے، لیکن یہ صرف اتنی ہی اچھی ہوتی ہے جتنی اچھی معلومات سے اسے تربیت دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں ہم نے اپنے ان تجربہ کار انجینئرز کے علم اور تجربے کو وہ اہمیت نہیں دی جو دینی چاہیے تھی۔ یہ وہ لوگ تھے جو کئی نسلوں کی گاڑیوں پر کام کر چکے تھے اور ان کے پاس برسوں کا عملی تجربہ موجود تھا۔
چارلس پون نے مزید کہا کہ کمپنی نے غلطی سے یہ سمجھ لیا تھا کہ صرف اے آئی کو ڈیزائن کی ضروریات فراہم کر دینے سے اعلیٰ معیار کی مصنوعات تیار ہو جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ سوچا کہ مصنوعی ذہانت کو ڈیزائن کی معلومات دے دینے سے خود بخود بہترین معیار حاصل ہو جائے گا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔
فورڈ کے نائب صدر نے بتایا کہ خودکار نظام اور اے آئی ٹولز میں وہ مہارت اور عملی تجربہ موجود نہیں تھا جو سینئر تکنیکی ماہرین کے پاس تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی تجربہ کار ملازمین کمپنی چھوڑ گئے تھے اور ان کا قیمتی علم اے آئی سسٹمز کو منتقل نہیں کیا جا سکا۔
چارلس پون کے مطابق کمپنی نے اب انہی تجربہ کار انجینئرز کو دوبارہ بھرتی کیا ہے تاکہ وہ نہ صرف اے آئی اور مشین لرننگ سسٹمز کو بہتر انداز میں تربیت دیں بلکہ نوجوان انجینئرز کی بھی رہنمائی کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے یہ تسلیم کیا کہ اگر ہمیں اپنی آٹومیشن، مشین لرننگ اور مصنوعی ذہانت کے نظام بہتر بنانے ہیں تو ان کی تربیت سب سے زیادہ تجربہ رکھنے والے افراد کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
فورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر کمار گلہوترا نے گزشتہ سال اکتوبر میں سرمایہ کاروں کو بتایا تھا کہ کمپنی اپنے پورے صنعتی نظام میں اے آئی متعارف کرا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کمپنی نے اپنے کارخانوں میں 900 اے آئی سے چلنے والے کیمرے نصب کیے ہیں تاکہ پیداواری مرحلے پر ہی معیار سے متعلق مسائل کی نشاندہی کی جا سکے اور سپلائی میں رکاوٹوں کو کم کیا جا سکے۔
اس سے قبل جون 2025 میں فورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جم فارلے نے مصنف والٹر آئزکسن کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ مصنوعی ذہانت بہت سے وائٹ کالر ملازمین کو پیچھے چھوڑ دے گی۔
دوسری جانب فورڈ کا کہنا ہے کہ کمپنی نے گاڑیوں کے معیار کے حوالے سے نمایاں بہتری بھی حاصل کی ہے۔ کمپنی نے اعلان کیا کہ وہ امریکا میں جے ڈی پاور انیشل کوالٹی اسٹڈی میں سب سے بہترین مین اسٹریم آٹو موبائل کمپنی قرار پائی ہے، جو اسے 2010 کے بعد پہلی مرتبہ حاصل ہوا ہے۔
فورڈ نے اپنی پریس ریلیز میں کہا کہ اعلیٰ معیار حاصل کرنے کے لیے کمپنی کو بڑے پیمانے پر باصلاحیت افراد کی دوبارہ خدمات حاصل کرنا پڑیں۔ اس مقصد کے لیے انجینئرنگ، سپلائی چین اور مینوفیکچرنگ کے سینئر عہدیداروں میں تبدیلیاں کی گئیں، جبکہ تقریباً 300 ایسے تجربہ کار انجینئرز کو دوبارہ بھرتی کیا گیا جو کئی دہائیوں کے ڈیزائن اور انجینئرنگ کے تجربے کے حامل ہیں۔