ایران نے صدر ٹرمپ کے دوحہ میں مذاکرات سے متعلق دعوے کی تردید کر دی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے باوجود کہ ایران کی درخواست پر منگل کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات ہوں گے، ایران نے ایک بار پھر اس کی تردید کر دی ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ آئندہ دنوں میں امریکا کے ساتھ کسی بھی ملاقات یا مذاکرات کا شیڈول طے نہیں کیا گیا، جب کہ ایرانی وفد دوحہ صرف مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیے جائے گا، نہ کہ امریکی حکام سے مذاکرات کے لیے۔

قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو جاری بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان آئندہ دنوں میں کسی بھی مذاکرات کا شیڈول طے نہیں کیا گیا۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق اسماعیل بقائی نے بتایا کہ امریکا سے مذاکرات کے لیے مقرر ایرانی وفد اس ہفتے قطر کے دارالحکومت دوحہ کا دورہ کرے گا، تاہم اس دورے کا مقصد مفاہمتی یادداشت کی شقوں پر عمل درآمد کا جائزہ لینا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ قطر جانے والے امریکی نمائندوں کے دورے کا ایرانی وفد کے دورے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور دونوں وفود کے درمیان کسی ملاقات کا پروگرام طے نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق ایرانی خبر رساں ایجنسی آئی ایس این اے نے قطر میں ایرانی سفارت خانے کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ دوحہ میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی تیاریوں کا عمل ابھی تک شروع نہیں ہوا۔

سفارت خانے نے روسی خبر رساں ایجنسی آر آئی اے نووستی کو جاری بیان میں کہا کہ انہیں اس معاملے پر اب تک کوئی سرکاری یا باضابطہ اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

ادھر ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی بھی اس سے قبل واضح کر چکے ہیں کہ اگرچہ قطر کے ساتھ، بالخصوص دوسرے فریق کی ذمہ داریوں پر عمل درآمد سے متعلق، مشاورت معمول کے مطابق جاری ہے، تاہم دوحہ میں تکنیکی ورکنگ گروپ کے مذاکرات سے متعلق بعض میڈیا رپورٹس کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔

ان کے مطابق تکنیکی مذاکرات کا پہلا دور صرف ضروری شرائط پوری ہونے اور تاریخ و مقام پر اتفاق کے بعد ہوگا۔

یہ تمام بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی درخواست پر منگل کو دوحہ میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات ہوں گے۔

بعد ازاں وائٹ ہاؤس نے بھی تصدیق کی تھی کہ امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر دوحہ میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات میں شرکت کریں گے۔

اس سے قبل رائٹرز نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ عبوری امن معاہدے پر عمل درآمد کے سلسلے میں امریکا اور ایران کے درمیان دوحہ میں تکنیکی مذاکرات متوقع ہیں اور ثالثوں نے کشیدگی کم رکھنے کے لیے خصوصی رابطہ نظام بھی قائم کیا ہے۔

تاہم ایران کی وزارت خارجہ، نائب وزیر خارجہ اور قطر میں ایرانی سفارتخانے کے حالیہ بیانات کے بعد دوحہ میں متوقع مذاکرات سے متعلق صورت حال بدستور غیر یقینی ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles