
کراچی میں رینجرز کیمپ پر ہونے والے حملے کے بعد ایک بار پھر ایک کالعدم دہشتگرد تنظیم ’جماعت الاحرار‘ کا نام سامنے آیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات (آئی ایس پی آر) کے مطابق یونیورسٹی روڈ پر رینجرز کے کیمپ پر حملہ کرنے والے دہشتگردوں کا تعلق اسی جماعت الاحرار سے تھا۔
اس تنظیم کا نام عربی زبان سے لیا گیا ہے جس کا مطلب ’آزاد لوگوں کی جماعت‘ ہے، لیکن یہ وہ آزادی نہیں جو عام انسان سمجھتے ہیں، بلکہ یہ تنظیم خون خرابے اور دہشتگردی کے ذریعے اپنا نظریہ زبردستی تھوپنا چاہتی ہے۔
اس حوالے سے جارج ٹاؤن یونیورسٹی کی پروفیسر کرسٹین فیئر کا کہنا ہے کہ ان گروہوں کے نام سے دھوکہ نہ کھائیں، اصل بات یہ ہے کہ کمانڈر کون ہے، اس کی سوچ کیا ہے، اور وہ کس کو نشانہ بنا رہا ہے۔
اس تنظیم کی شروعات تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے ہوئی تھی۔ اگست 2014 میں جب اس وقت کے طالبان سربراہ ملا فضل اللہ نے مہمند ایجنسی کے کمانڈر عمر خالد خراسانی کو عہدے سے ہٹایا تو ٹی ٹی پی کے اندر طاقت کے حصول کی ایک بڑی لڑائی شروع ہوئی۔
تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نے برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد جب سوات کے طالبان کے رہنما مولوی فضل اللہ نے ٹی ٹی پی کی قیادت سنبھالی تھی، تو تنظیم کے اندر وسیع پیمانے پر اختلافات پیدا ہوئے تھے کیونکہ بعض مسلح کمانڈرز چاہتے تھے کہ تنظیم کے اختیارات کے ڈھانچے کو تبدیل کیا جائے اور افغان طالبان کی طرز پر ایک مضبوط شوریٰ قائم کی جائے۔
خراسانی اس فیصلے پر شدید ناراض ہوا اور اس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک الگ تنظیم بنائی جس کا نام جماعت الاحرار رکھا گیا۔
احسان اللہ احسان کے مطابق، بعض غیر ملکی جنگجو، جن میں پاکستانی طالبان کے مقامی دھڑے اور وسطی ایشیا سے تعلق رکھنے والے گروہ شامل ہیں، انہوں نے ایک اتحاد بنایا تھا جسے جماعت الاحرار کا نام دیا گیا تھا۔
عمر خالد خراسانی کون تھا؟
عمر خالد خراسانی پہلے ایک صحافی اور شاعر تھا جو کراچی کے مدرسوں میں پڑھا تھا لیکن بعد میں وہ مہمند جا کر مسلح جنگجو بن گیا۔ امریکا نے اس کے سر پر انعام بھی رکھا تھا اور وہ اگست 2022 میں افغانستان میں ایک سڑک کنارے نصب بم کے دھماکے میں مارا گیا۔
خراسانی کے بعد اس تنظیم کی علامتی قیادت مولانا قاسم خراسانی عرف ناظم کے حوالے کی گئی، جو سوات سے تعلق رکھنے والا ایک شدت پسند کمانڈر تھا اور میڈیا اور مشاورتی امور چلاتا رہا۔
بعدازاں، اس جماعت کی قیادت عمر مکرم خراسانی کو سونپ دی گئی جو اب اس تنظیم کا سربراہ ہے۔
جماعت الاحرار کا بنیادی مقصد کیا ہے؟
احسان اللہ احسان کے مطابق جماعت الاحرار کا بنیادی مقصد پاکستانی حکومت کے خلاف پہلے سے جاری مسلح جدوجہد کو مزید مضبوط بنانا تھا۔
جماعت الاحرار کا سب سے بڑا مقصد پاکستان کی موجودہ جمہوری حکومت، آئین، قانون اور الیکشن کے نظام کو ختم کر کے اپنے سخت نظریات کے مطابق شریعت کا نظام نافذ کرنا ہے۔ یہ تنظیم پاکستان کے قانون اور پارلیمنٹ کو نہیں مانتی کیونکہ اس کے نزدیک یہ انسانوں کا بنایا ہوا نظام ہے۔
یہ تنظیم پیٹرولیم اور دیگر ملکی وسائل کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں پر بھی قبضہ کرنے کی خواہش ظاہر کر چکی ہے۔
اپنے خیالات کو پھیلانے کے لیے انہوں نے احیائے خلافت کے نام سے ایک رسالہ بھی نکالا تھا جس میں وہ پوری دنیا پر اپنی حکومت قائم کرنے کی باتیں کرتے تھے۔
اپنے ان مقاصد کو پورا کرنے کے لیے اس تنظیم نے پاکستان میں انتہائی ہولناک حملے کیے۔
دو نومبر 2014 کو واہگہ بارڈر پر ایک بڑا خودکش دھماکہ کیا گیا جس میں 61 معصوم شہری مارے گئے۔
اس کے بعد لاہور کے یوحنا آباد میں دو گرجا گھروں پر حملے کیے گئے جہاں عبادت کرنے والے 15 مسیحی شہری جان سے گئے۔
پنجاب کے سابق وزیر داخلہ شجاع خانزادہ کو بھی اسی تنظیم نے ایک دھماکے میں نشانہ بنایا۔
فروری 2017 میں لاہور کے مال روڈ پر پولیس والوں کے ایک احتجاج پر حملہ کر کے ڈی آئی جی ٹریفک احمد مبین زیدی سمیت 13 لوگوں کو شہید کرنے کی ذمہ داری بھی اس تنظیم نے قبول کی۔
اس تنظیم کے حوالے سے پاکستان نے سخت اقدامات کرتے ہوئے نومبر 2016 میں اس کو کالعدم قرار دیا۔ اس کے بعد امریکا اور اقوام متحدہ نے بھی اسے عالمی دہشتگرد تنظیم قرار دے کر اس کے اثاثے منجمد کر دیے تھے۔
تنظیم کے اندر ایک بڑا موڑ اس وقت آیا جب اس کا مشہور ترجمان احسان اللہ احسان اپریل 2017 میں پاک فوج کے سامنے سرنڈر کر گیا اور اس نے تنظیم کے کئی راز فاش کیے، تاہم فروری 2020 میں وہ سرکاری حراست سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔
اسی سال یعنی اگست 2020 میں جماعت الاحرار دوبارہ باضابطہ طور پر تحریک طالبان پاکستان یعنی ٹی ٹی پی میں شامل ہو گئی۔
اگرچہ اب یہ الگ تنظیم کے طور پر نظر نہیں آتی، لیکن اس کے جنگجو اور پرانا نظریہ آج بھی ٹی ٹی پی کے اندر پوری طرح متحرک ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں حالیہ برسوں میں دہشتگردی کے واقعات میں جو پچاس فیصد سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا ہے، ان میں زیادہ تر کارروائیاں ٹی ٹی پی کے انہی گروہوں نے کی ہیں جن میں جماعت الاحرار کے پرانے جنگجو شامل ہیں۔
ایک عام پاکستانی کے لیے یہ سمجھنا بے حد ضروری ہے کہ یہ لوگ مذہب کا نام استعمال کر کے صرف طاقت اور اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں، جبکہ اسلام میں معصوم شہریوں، عورتوں، بچوں اور اقلیتوں پر حملہ کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔