
ایران نے خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) اور امریکا کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے کو مداخلت پر مبنی، غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے خطے کے ممالک کو خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی علاقائی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ تہران نے اپنے جوہری اور میزائل پروگرام پر امریکی الزامات کو من گھڑت اور اسرائیل کا پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے امریکی خارجہ مارکو روبیو اور اور خلیجی ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان اجلاس کے بعد جاری کردہ مشترکہ اعلامیے کو مسترد کرتے ہوئے خلیجی ریاستوں کی سلامتی کے حوالے سے امریکی دعوؤں کو محض بیان بازی اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔
بیان کے مطابق اس وقت خطے میں امریکی فوجی موجودگی مقامی ممالک کے لیے بوجھ بن چکی ہے اور یہی عدم استحکام کی ایک بڑی وجہ ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ امریکا نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے دوران خلیجی ممالک میں موجود اپنے فوجی اڈوں کو استعمال کیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن علاقائی ممالک کی سلامتی اور ان کے باہمی تعلقات کو خاطر میں نہیں لاتا۔
ایرانی وزارت خارجہ نے خلیجی ممالک کو بین الاقوامی قانون ہمسائیگی کے اصولوں کی یاد دہانی کراتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین یا تنصیبات کو کسی تیسرے فریق کی جانب سے ایران کے خلاف منصوبہ بندی، معاونت یا فوجی کارروائی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے ملک کے جوہری پروگرام کے حوالے سے الزامات کو جھوٹ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
ایران نے مشترکہ اعلامیے میں ایران کو خطے کے لیے خطرہ قرار دینے کے تاثر کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ بیانیہ ایران کے خلاف طویل عرصے سے جاری ’ایران فوبیا مہم‘ کا حصہ ہے۔ بیان کے مطابق امریکا کی ’تقسیم کرکے حکومت کرو‘ کی پالیسی نے خطے کو اسلحے کی دوڑ میں دھکیل دیا ہے۔ ایران نے خلیجی ممالک کو مشورہ دیا کہ وہ مغربی دھمکیوں کا حصہ بننے کے بجائے مشرق وسطیٰ کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے ایرانی اقدام کا حصہ بنیں۔