
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ امریکا نے کشیدگی کم کرنے کے لیے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ ایک براہِ راست رابطہ چینل قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
برطانوی ویب سائٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران جے ڈی وینس نے بتایا کہ اس انتظام کے تحت ایرانی اور امریکی فوجی حکام دوحہ میں ملاقاتیں کریں گے جہاں وہ باہمی تنازعات کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ ایرانی حکام نے تجویز دی کہ پاسدارانِ انقلاب کا ایک نمائندہ دوحہ بھیجا جائے، جہاں وہ سینٹکام کے نمائندے کے ساتھ بیٹھ کر مختلف تنازعات کے حل کے لیے براہِ راست رابطے میں رہے گا۔ ان کے بقول اس طریقہ کار سے کئی اہم اختلافات کو حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
امریکی نائب صدر نے مزید انکشاف کیا کہ متحدہ عرب امارات نے بھی حالیہ عرصے میں ایران کے ساتھ ایسے براہِ راست رابطے قائم کیے ہیں جو اس سے قبل موجود نہیں تھے، جن میں پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ مذاکرات بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب مبصرین اس پیش رفت کو غیر معمولی قرار دے رہے ہیں، کیونکہ امریکا اپنے قوانین کے تحت پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔ ایسے میں سینٹکام اور پاسدارانِ انقلاب کے درمیان براہِ راست مذاکرات کئی قانونی اور سفارتی سوالات بھی جنم دے سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ رابطہ مؤثر ثابت ہوتا ہے تو دونوں ممالک کے فوجی اداروں کے درمیان اعتماد سازی میں مدد مل سکتی ہے، جس سے مستقبل میں کسی بھی ممکنہ تصادم کے خطرات کم ہونے کا امکان ہے۔