
ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے امریکا کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ ایران اپنے منجمد اثاثوں کی بحال ہونے والی رقم سے امریکی زرعی مصنوعات خریدے گا۔
باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پیغام میں امریکی دعوؤں پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’امریکا جھوٹا دعویٰ کر رہا ہے کہ ہم بحال شدہ اثاثوں سے زرعی مصنوعات خریدیں گے‘۔
انہوں نے کہا کہ دلچسپ بات ہے کہ ہم نے جو واحد امریکی فصل دیکھی ہے وہ ’بے اعتمادی‘ ہے جو خالص اور گھریلو ہے۔
باقر قالیباف نے کہا کہ امریکی دعوؤں سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ صرف جینیاتی طور پر تبدیل شدہ سویا بین، ٹوٹے ہوئے وعدے اور فضول باتیں ہی ایکسپورٹ کرنا جانتا ہے۔
باقر قالیباف کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران اپنے اثاثوں کی بحالی کی صورت میں امریکی زرعی مصنوعات کی خریداری کرے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت ایران کے 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے بحال کیے جائیں گے تاہم انہیں ایک مخصوص اکاؤنٹ میں رکھا جائے گا۔ انہوں نے دعوی کیا کہ ایران اس رقم کو صرف اور صرف امریکی کسانوں سے مکئی، سویا بین اور گندم جیسی زرعی مصنوعات اور ادویات خریدنے کے لیے استعمال کرنے کا پابند ہوگا۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھی صدر ٹرمہ کے اس مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا تھا کہ قطر کی نگرانی میں یہ فنڈز امریکی زرعی مارکیٹ کو فائدہ پہنچانے کے لیے استعمال ہوں گے۔
امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات میں ایران کی جانب سے چیف مذاکرات کار باقر قالیباف اور ایرانی وزارتِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ ایران اپنے فنڈز کہاں اور کیسے خرچ کرے گا، یہ فیصلہ وہ خود کرے گا۔ اگر ایران کوئی زرعی چیز خریدے گا بھی تو وہ اپنی مرضی سے مارکیٹ کی قیمت اور کوالٹی دیکھ کر خریدے گا، امریکا کی ڈکٹیشن پر نہیں۔