
امریکا اور ایران کے درمیان دیرپا امن قائم کرنے کے لیے جاری مذاکرات کے دوران ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان اس بات پر شدید اختلاف پید ہوگیا ہے کہ آیا ایران اپنے ایٹمی ٹھکانوں کا معائنہ اقوامِ متحدہ سے کروانے پر راضی ہوا ہے یا نہیں۔
یہ بحث ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سوئٹزرلینڈ میں دونوں ملکوں کی تکنیکی ٹیمیں جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے سر جوڑ کر بیٹھی ہیں۔
ایٹمی معائنہ کاری کے معاملے پر تہران میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ اقوامِ متحدہ کے انسپکٹرز کے شیڈول میں ایسا کوئی منصوبہ شامل نہیں ہے کہ وہ ان ایٹمی ٹھکانوں کا دورہ کریں جن پر پچھلے سال امریکا نے بمباری کی تھی۔
ایرانی ترجمان کے اس بیان نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے اس دعوے کو جھٹلا دیا ہے جو انہوں نے ایک دن پہلے ہی کیا تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران معائنہ کاری کے لیے مان گیا ہے۔
اس بیان کے سامنے آتے ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے اور واشنگٹن میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”اگر ایران ایٹمی معائنہ کاری کے لیے راضی نہیں ہوا تو میں تہران کے ساتھ جاری بات چیت کو اسی وقت فوراً ختم کر دوں گا۔“
البتہ امریکی صدر نے یہ بھی واضح کیا کہ ان معائنوں لیے کوئی جلدی بھی نہیں ہے۔
دوسری طرف ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے ’آئی اے ای اے‘ نے اس پورے معاملے پر ابھی تک خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
یہ ادارہ 2025 میں اسرائیل کے ساتھ بارہ دن تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد سے ایران میں آتا رہا ہے، لیکن امریکا کے حملوں کا نشانہ بننے والے یورینیم افزودگی کے مراکز تک اسے ابھی تک رسائی نہیں دی گئی۔
ایران کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام صرف اور صرف پرامن اور بجلی بنانے جیسے مقاصد کے لیے ہے، جبکہ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس اتنی بڑی مقدار میں افزودہ یورینیم موجود ہے جس سے اگر وہ چاہے تو ایٹم بم بنا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ پچھلے ہفتے امریکا اور ایران کے درمیان ایک عارضی معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت ایران اپنے یورینیم کے ذخیرے کو کم کرنے پر راضی ہوا تھا اور بدلے میں امریکا نے اس پر لگی پابندیاں عارضی طور پر ہٹائی تھیں، تاکہ دونوں ملکوں کو حتمی امن معاہدے کے لیے ساٹھ دنوں کا وقت مل سکے۔