
امریکا اور ایران کے درمیان دیرپا امن قائم کرنے کے لیے بات چیت کا آغاز تو ہو چکا ہے، لیکن اس وقت خلیجی ممالک میں ایک بڑا سوال سب سے زیادہ پریشانی کا سبب بنا ہوا ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں ایران کو 300 ارب ڈالر کی خطیر رقم کون فراہم کرے گا؟
یہی وہ سوال ہے جس کا جواب حاصل کرنے کے لیے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو مشرقِ وسطیٰ کے تین روزہ دورے پر نکلے ہیں، جہاں وہ متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین کے سربراہان سے ملاقاتیں کریں گے۔
مارکو ربیو کے اس دورے کا مقصد واشنگٹن کے ان قریبی اور پرانے ساتھیوں کو یہ یقین دلانا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کا ایران کے ساتھ جو بھی معاہدہ ہو رہا ہے، اس سے خلیجی ممالک کا کوئی نقصان نہیں ہوگا۔
خلیجی ممالک کو اس سفارت کاری یا امن کی کوششوں پر کوئی اعتراض نہیں ہے، کیونکہ وہ خود امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان لڑائی کو روکنے کے حق میں تھے۔ بلکہ انہیں اصل تشویش اس بات پر ہے کہ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہو گئے تو ایران کو کیا کچھ ملے گا اور کیا یہ ڈیل ایران کے پرانے فوجی عزائم کو ہمیشہ کے لیے روک پائے گی یا نہیں؟
اس وقت سب سے زیادہ بحث ایران کو ملنے والے 300 ارب ڈالر کے ایک بہت بڑے امدادی پیکیج پر ہو رہی ہے جس کا مقصد ایران کی دوبارہ تعمیرِ نو کرنا ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی ابتدائی دستاویزات کے مطابق، واشنگٹن نے یہ ذمہ داری اٹھائی ہے کہ وہ خطے کے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک ایسا منصوبہ بنائے گا جس کے تحت ایران کی دوبارہ تعمیر اور اس کی معیشت کو کھڑا کرنے کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر رکھے جائیں گے، اور اس منصوبے کو چلانے کا طریقہ کار اگلے ساٹھ دنوں کے اندر حتمی معاہدے کا حصہ بنا کر طے کر لیا جائے گا۔
اب خلیج کے حکمران اس بات سے ڈر رہے ہیں کہ اتنی بڑی رقم سے تہران نہ صرف اپنے ملک کو دوبارہ کھڑا کر لے گا بلکہ اس سے اس کی فوجی طاقت اور خطے میں اثر و رسوخ بھی پہلے سے زیادہ مضبوط ہو جائے گا، کیونکہ اس ابتدائی معاہدے میں ایران کے میزائل پروگرام کا کوئی ذکر نہیں ہے۔
یہ تشویش ان ملکوں کے لیے اور بھی زیادہ سنگین ہے جہاں امریکی فوج کے بڑے اڈے موجود ہیں، جیسے سعودی عرب، امارات، کویت، بحرین اور قطر، کیونکہ حالیہ جنگ کے دوران ان تمام ملکوں کو ایران کے میزائلوں اور ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ عرب ممالک اب یہ صاف صاف جاننا چاہتے ہیں کہ واشنگٹن ایران کو کیا دے رہا ہے اور اس کے بدلے ایران کو کیا کرنا پڑے گا، اسی لیے اب تک کسی بھی عرب ملک نے اس فنڈ میں پیسہ دینے کی حامی نہیں بھری ہے، خاص طور پر اس لیے کہ جنگ سے پہلے صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ تہران کو امریکا کی طرف سے ایک دھیلا بھی نہیں دیا جائے گا۔
پیسوں کا یہ لین دین اس وقت مذاکرات کا سب سے الجھا ہوا حصہ بن چکا ہے۔ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے ابتدائی مذاکرات کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کچھ تفصیلات بتائیں کہ اگر ایران پر سے پابندیاں ہٹتی ہیں تو دنیا بھر میں روکے گئے اس کے اربوں ڈالر کیسے استعمال ہوں گے۔
جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ ”ہم ایک ایسا طریقہ کار بنانا چاہتے تھے جس کے تحت اگر ہم کبھی ایران کے منجمد اثاثوں کو بحال کریں، تو یہ پکا کر سکیں کہ وہ پیسہ ایران کے عام لوگوں کی بھلائی کے لیے استعمال ہو نہ کہ دہشت گردی کو فروغ دینے کے لیے۔“
جے ڈی وینس کے مطابق، واشنگٹن اور قطر مل کر اس بحال ہونے والے پیسے کی نگرانی کریں گے۔
جے ڈی وینس نے مزید بتایا کہ ”جیرڈ کشنر نے قطریوں کے ساتھ مل کر اس کا ایک بہت ہی دلچسپ حل نکالا ہے، جس کے تحت اگر ایران کا کوئی بھی روکا ہوا پیسہ بحال ہوتا ہے، تو اس کے استعمال کی منظوری ہم بھی دیں گے اور قطری بھی دیں گے، اور پھر اس پیسے سے ایران کے عوام کے فائدے کے لیے امریکا سے مکئی اور گندم خریدی جائے گی۔“
اس طریقے سے ایران اپنے پیسے تک پہنچ تو جائے گا لیکن وہ رقم صرف انسانی ہمدردی اور اناج کی خریداری کے لیے ہی استعمال ہو سکے گی۔
دوسری طرف، ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے اثاثوں اور پیسوں کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرنے کا پورا حق چاہتا ہے۔
ایران کے مرکزی بینک کے گورنر کے مطابق، ان کے روکے گئے پیسوں کے بارے میں حتمی فیصلہ صرف اور صرف ایرانی حکام کی مرضی سے ہی ہونا چاہیے۔ یہ رقم کوئی چھوٹی موٹی نہیں ہے، شروع میں اگرچہ بات چیت چھ ارب سے پچیس ارب ڈالر پر ہو رہی تھی، لیکن اندازوں کے مطابق پابندیوں کی وجہ سے اس وقت دنیا بھر کے بینکوں میں ایران کے ایک سو ارب سے لے کر ایک سو بیس ارب ڈالر تک کے اثاثے پھنسے ہوئے ہیں۔
پیسے کے علاوہ مارکو روبیو کے اس دورے میں آبنائے ہرمز اور خطے کی سیکیورٹی بھی ایجنڈے کا حصہ ہیں۔