
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے انسپکٹرز جلد ایران واپس جا کر ابتدائی معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی کریں گے۔
سوئٹزرلینڈ کے علاقے برگن اسٹاک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ حالیہ مذاکرات کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ فریقین کے درمیان ”بہت اچھی پیش رفت“ ہوئی ہے اور حتمی معاہدے کے لیے ایک مضبوط بنیاد رکھ دی گئی ہے۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ مذاکرات کاروں نے ایران کے ساتھ بات چیت میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں اور حالیہ مذاکرات ”بہت اچھے“ رہے۔ ان کے مطابق موجودہ پیش رفت ایک کامیاب اور دیرپا معاہدے کی جانب اہم قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے انسپکٹرز جلد ایران واپس جائیں گے تاکہ یہ تصدیق کی جا سکے کہ تہران ابتدائی معاہدے کی شرائط پر عمل کر رہا ہے یا نہیں۔ ان کے بقول انسپکٹرز کا دورہ کم از کم رواں ہفتے متوقع ہے جب کہ آئی اے ای اے کے ساتھ بعض رابطے آج ہی شروع ہو سکتے ہیں۔
امریکی نائب صدر نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ ہم ایک حتمی معاہدے اور مستقل تصفیے تک پہنچیں گے، لیکن اس وقت میرا خیال ہے کہ ہم نے بہت بڑی پیش رفت کی ہے اور جوہری انسپکٹرز کی واپسی اس پیش رفت کا اہم حصہ ہے۔
جے ڈی وینس نے بتایا کہ انہوں نے گزشتہ رات دو بجے اقوام متحدہ کے جوہری انسپکٹرز کو پیش رفت سے آگاہ کرنے کے لیے فون کیا، تاہم کسی نے کال وصول نہیں کی۔ انہوں نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا کہ رات دو بجے زیادہ تر لوگ فون نہیں اٹھاتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صورتِ حال حوصلہ افزا رہی، لبنان میں امن برقرار رہا اور آبنائے ہرمز بھی کھلی رہی، جو خطے میں استحکام کے لیے اہم پیش رفت ہے۔
ایران کے منجمد اثاثوں کے حوالے سے جے ڈی وینس نے کہا کہ اگر مستقبل میں ایرانی فنڈز بحال کیے گئے تو ان کے استعمال کے لیے ایک خصوصی طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔
ان کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کی تجویز کے تحت یہ فنڈز امریکی زرعی اجناس، خصوصاً سویا بین، مکئی اور گندم کی خریداری پر خرچ کیے جا سکتے ہیں تاکہ اس کا براہ راست فائدہ ایرانی عوام کو پہنچے۔
انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کی نگرانی امریکا اور قطر مشترکہ طور پر کریں گے تاکہ بحال ہونے والی رقم انسانی ضروریات کے لیے استعمال ہو اور اسے کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے۔