برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے استعفا دے دیا

برطانیہ کی سیاست میں ایک بہت بڑی تبدیلی سامنے آئی ہے جہاں برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے وزارتِ عظمیٰ سے مستعفی ہونےکا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔

کیئر اسٹارمر نے میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے آج صبح ہی برطانوی بادشاہ کو مستعفی ہونے کے فیصلے سے آگاہ کر دیا ہے۔

برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، سر کیئر اسٹارمر کو پچھلے کچھ عرصے سے ان کی اپنی ہی سیاسی جماعت ’لیبر پارٹی‘ کے اندر شدید دباؤ کا سامنا تھا، جس کے بعد انہوں نے حکومت چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

اپنے الوداعی بیان میں کیئر اسٹارمر نے دو سالہ حکومتی کارکردگی کا دفاع کیا اور ملک کے حالات پر کھل کر بات کی۔

انہوں نے کہا کہ ”جب دو سال پہلے میں نے یہ منصب سنبھالا تھا تو ملک کی خدمت کے لیے انتہائی پرجوش تھا اور اس پورے عرصے میں برطانوی عوام کی فلاح و بہبود اور ان کی بہتری ہی میری سب سے بڑی ترجیح رہی ہے۔“

انہوں نے اپنی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہا کہ ”مجھے بار بار اپنی ہی پارٹی نے کہا کہ ہماری سیاسی جماعت اب کمزور ہو کر ختم ہو چکی ہے، لیکن اس کے باوجود میں نے دو سال کے اندر ملکی معیشت اور پیسے کے نظام کو مضبوط کیا۔“

کیئر اسٹارمر نے عوام کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ ملک میں بڑی تبدیلیاں راتوں رات نہیں آتیں بلکہ ان کے لیے اچھا خاصا وقت درکار ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے دورِ حکومت میں دوست ممالک اور اتحادیوں کے ساتھ برطانیہ کے تعلقات کو پہلے سے زیادہ مضبوط بنایا ہے اور نئے وزیراعظم کی مکمل حمایت اور ان کے ساتھ پورا تعاون کیا جائے گا۔

 برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر لندن میں اپنے استعفے کا اعلان کر رہے ہیں (تصویر: رائٹرز)
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر لندن میں اپنے استعفے کا اعلان کر رہے ہیں (تصویر: رائٹرز)

وزیراعظم کے استعفے کے بعد اب برطانیہ کے نئے وزیراعظم کے لیے جوڑ توڑ شروع ہو گئی ہے۔

برطانوی اخبار دی گارجین کی ایک رپورٹ کے مطابق، موجودہ سیاسی صورت حال میں اینڈی برنہم ملک کے نئے وزیراعظم بننے کے لیے سب سے مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں اور انہیں پارلیمنٹ کے تقریباً تین سو ارکان کی بڑی حمایت حاصل ہے، جس کی وجہ سے ان کے اگلا وزیراعظم بننے کے امکانات بہت زیادہ روشن دکھائی دے رہے ہیں۔

دوسری طرف ایک اور برطانوی اخبار ٹیلی گراف نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اگر اینڈی برنہم ملک کے نئے وزیراعظم منتخب ہو جاتے ہیں، تو موجودہ وزیرِ انصاف شبانہ محمود نئی حکومت اور کابینہ میں بھی اپنی پرانی ذمہ داریاں برقرار رکھ سکتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، شبانہ محمود ملک میں باہر سے آنے والے لوگوں یعنی امیگریشن کے نظام میں بڑی اصلاحات لانے کی خواہشمند ہیں اور ان کی سب سے بڑی ترجیح غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے والے تارکینِ وطن کے خلاف قوانین کو مزید سخت بنانا ہے۔

میڈیا کا کہنا ہے کہ برطانیہ کی آنے والی نئی حکومت میں شہریت حاصل کرنے کے طریقوں اور امیگریشن کی پالیسی کو پہلے سے زیادہ سخت کیے جانے کا پورا امکان ہے، تاہم ان تمام امور پر حتمی اور پکے فیصلے نئی قیادت کے باقاعدہ انتخاب کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles