معاہدہ نہ کیا تو ایران کو تباہ کردوں گا، تم لوگ واپس نہیں جاسکو گے: صدر ٹرمپ کی ایرانی وفد کو دھمکی

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدہ نہ کیا تو میں ایران کو تباہ کردوں گا اور ایرانی وفد اپنے ملک واپس نہیں جاسکے گا۔ دوسری طرف سوشل ٹروتھ پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران لبنان میں اپنے پراکسیز کو فوری روکے، ورنہ ہم ایران کو بہت سخت جواب دیں گے، پچھلے ہفتے جو کیا اس سے بھی زیادہ بڑی کارروائی کریں گے۔

اتوار کو سوئٹزرلینڈ کے سیاحتی مقام برگن اسٹاک میں امریکا اور ایران کے مذاکرات جاری ہیں اور مذاکرات سے قبل فاکس نیوز کے رپورٹر سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اگر ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہوا تو امریکا آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو ہم آبنائے ہرمز پر قبضہ کر لیں گے اور وہاں ٹول سسٹم بھی نافذ کیا جا سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے حکام کو پہلے ہی خبردار کیا گیا ہے کہ اگر انہوں نے آبنائے ہرمز بند کی تو ان کا ملک باقی نہیں رہے گا۔ امریکی صدر کے مطابق وہ سمجھتے ہیں کہ امریکا اس اہم آبی گزرگاہ کا نگہبان بن سکتا ہے اور اس کے ذریعے گزرنے والے تیل پر فیس عائد کی جا سکتی ہے۔

اسی گفتگو میں امریکی صدر نے ایرانی مذاکراتی وفد کے حوالے سے بھی سخت زبان استعمال کرتے ہوئے کہا کہ اگر معاہدہ نہ کیا تو میں ایران کو تباہ کردوں گا۔ انہوں نے ڈھکے چھپے الفاظ میں ایرانی وفد کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ تم لوگ اپنے ملک میں واپس بھی نہیں جاسکو گے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے یورنیم افزودگی کے حوالے سے بیان پر امریکی صدر نے کہا کہ بہتر ہے پزشکیان سدھر جائیں ورنہ ہم باقی ملک پر قبضہ کرلیں گے، ایران سے یہ کوئی ڈیل نہیں بلکہ سیزفائر کی وقتی توسیع ہے، تمام کارڈز امریکا کے پاس ہیں، ہمارے پاس متعدد آپشنز ہیں، 60 دن بعد میں جو چاہے کروں گا، ضرورت پڑی تو واشنگٹن آبنائے ہرمز کا کنٹرول لے کر فیس لگادے گا۔

صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سوئٹزر لینڈ میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات ہورہے ہیں، جن میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی شریک ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مدبرانہ قیادت کے باعث امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات ممکن ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی امن کے لیے یہ اہم موقع ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے معاہدے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ ہم مل کر دنیا میں اتحاد قائم کر سکتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کی لبنان کے معاملے پر ایران کو دھمکیاں

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان کے معاملے پر اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے بجائے ایران کو ایک بار پھر دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کو لبنان میں اپنی ”بہت زیادہ معاوضے لینے والی پراکسیز“ کو فوری طور پر روکنا ہوگا، جو ان کے مطابق خطے میں بدامنی کا باعث بن رہی ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے یہ اقدامات نہ روکے تو امریکا ”بہت سخت“ کارروائی کرے گا اور ایسی صورت میں ایران پر اس سے پہلے کی گئی کارروائیوں سے بھی زیادہ شدید حملے کیے جائیں گے۔

امریکی صدر نے یہ بیان اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری کیا، جس میں انہوں نے سخت لہجے میں ایران کو تنبیہ کرتے ہوئے خطے میں جاری کشیدگی کا ذمہ دار قرار دیا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں بالخصوص لبنان کے محاذ پر صورت حال انتہائی کشیدہ ہے اور مختلف فریقین کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

صدر ٹرمپ کے اس بیان کے بعد خطے میں سفارتی اور سیکیورٹی صورت حال مزید حساس ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے تاہم اس حوالے سے ایران کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

واضح رہے کہ اسرائیل لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کے باوجود لبنان پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے، گزشتہ روز اس نے 24 گھنٹے کے دوران 80 سے زائد لبنانی شہریوں کو شہید جبکہ درجنوں کو زخمی کیا۔

چند روز قبل، ایران کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر نے خبردار کیا تھا کہ اگر اسرائیل جنوبی لبنان میں اپنی عسکری کارروائیوں سے باز نہ آیا تو اُسے فیصلہ کن جواب دیں گے۔

ترجمان خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز نے واضح کیا تھا کہ اگر صورت حال یہی رہی اور اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں اپنی کارروائیاں نہ روکیں تو ایران کی مسلح افواج مناسب اور سخت جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں، خطے میں کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کیا جائے گا اور یک طرفہ کارروائیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles