
امریکا اور اسرائیل کے خلاف ایران کی فتح کو اسرائیلی عوام نے بھی تسلیم کرلیا ہے۔
عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اسرائیل میں کیے گئے ایک نئے عوامی سروے سے معلوم ہوا ہے کہ اسرائیلیوں کی جانب سے جنگ میں ایران کو فاتح قرار دیا گیا ہے۔
اسرائیل میں کیے گئے ایک نئے عوامی سروے کے مطابق شہریوں کی بڑی تعداد کا خیال ہے کہ ایران جنگ اور اس کے بعد امریکا کے ساتھ ہونے والے معاہدے سے زیادہ فائدہ اٹھانے میں کامیاب رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق شہریوں کی بڑی تعداد کا خیال ہے کہ ایران جنگ اور اس کے بعد امریکا کے ساتھ ہونے والے معاہدے سے زیادہ فائدہ اٹھانے میں کامیاب رہا ہے۔
یہ سروے یروشلم کی عبرانی یونیورسٹی اور آگام انسٹی ٹیوٹ کے اشتراک سے 17 سے 20 جون کے درمیان کیا گیا، جس میں تین ہزار 644 افراد نے حصہ لیا۔ سروے کے نتائج اتوار کے روز جاری کیے گئے ہیں۔
سروے کے مطابق 92.1 فیصد شرکاء نے کہا کہ ایران اس تنازع میں فاتح رہا یا اسے اسرائیل کے مقابلے میں زیادہ فائدہ حاصل ہوا۔
اسی طرح 82.9 فیصد افراد کا ماننا تھا کہ اس جنگ کے نتیجے میں اسرائیل کی طویل المدتی سلامتی کمزور ہوئی ہے۔
نتائج میں یہ بھی سامنے آیا کہ دائیں بازو کے سیاسی اتحاد کے حامیوں، جو وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کا بنیادی ووٹ بینک سمجھے جاتے ہیں، میں بھی 93.1 فیصد افراد نے یہ رائے دی کہ ایران جنگ میں کامیاب رہا۔
امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے کی مخالفت بھی نمایاں رہی۔ سروے میں شامل 63.2 فیصد افراد نے اس معاہدے کی مخالفت کی، جبکہ صرف 12.1 فیصد شرکاء نے اس کی حمایت کا اظہار کیا۔
سروے کے نتائج اسرائیلی عوام کے اس تاثر کی عکاسی کرتے ہیں کہ حالیہ جنگ اور اس کے بعد ہونے والی سفارتی پیش رفت میں ایران نسبتاً مضبوط پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔