
امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے تحت مذاکرات کی 60 روزہ مدت جمعرات سے شروع ہو گئی ہے۔ جے ڈی وینس نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ شہری علاقوں پر حملے ناقابلِ قبول ہیں، اسرائیل کو امن معاہدے کا احترام کرنا ہوگا۔
امریکی نائب صدر نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت معمول پر آچکی ہے اور لاکھوں بیرل تیل عالمی منڈیوں کی جانب روانہ ہوچکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد طے کردہ 60 روزہ مدت جمعرات سے باضابطہ طور پر شروع ہو چکی ہے۔
جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ اس عرصے کے دوران فریقین حتمی مذاکرات کریں گے جس کے بعد معاہدے کی شرائط طے کی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ مفاہمتی یادداشت ایک عبوری فریم ورک ہے، اہم اور پیچیدہ معاملات آئندہ مذاکرات میں زیر بحث آئیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد ایران کی جانب سے کسی بحری جہاز کو نشانہ نہیں بنایا گیا، جس سے خطے میں بحری تجارت کے تسلسل اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے خدشات میں کمی آئی ہے۔
لبنان سے متعلق سوالات کے جواب میں جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ امریکا چاہتا ہے کہ جنوبی لبنان میں سیکیورٹی کی ذمہ داری لبنانی حکومت سنبھالے اور وہاں ریاستی ادارے قانون نافذ کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران معاہدے کے لبنان سے متعلق نکات پر واشنگٹن کی توقع ہے کہ تمام فریق اپنی ذمہ داریوں اور وعدوں کی پاسداری کریں گے۔
بریفنگ کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ اس مدت کے اختتام کے بعد آبنائے ہرمز کے انتظام کا طریقہ کار کیا ہوگا۔ اس پر جے ڈی وینس نے جواب دیا کہ امریکا کا مؤقف بدستور یہی ہے کہ تیل اور گیس کی عالمی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والی اس اہم آبی گزرگاہ کو بغیر کسی محصول یا رکاوٹ کے کھلا رہنا چاہیے۔
پریس بریفنگ کے دوران جے ڈی وینس کا مزید کہنا تھا کہ ایران معاہدے کی پاسداری کر رہا ہے، یہ معاہدہ امریکا اور اسکی عوام کی فتح اور دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پورے عمل کے دوران اگر ایران نے مثبت رویہ اپنائے رکھا تو اسے پابندیوں میں کمی سمیت مزید معاشی فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔