کبھی تندور جیسی گرمی، کبھی اچانک بارشوں سے سیلاب: پاکستان کے موسم کو ہوا کیا ہے؟


پاکستان میں ان دنوں ہر شخص موسم کے بدلتے رنگ دیکھ کر شدید حیران اور پریشان ہے۔ کبھی ایک دن اتنی سخت گرمی ہوتی ہے کہ جینا محال ہو جاتا ہے تو دوسرے ہی دن اچانک بادل چھا جاتے ہیں۔ ملک کے ایک حصے میں تیز بارشوں سے تباہی مچی ہوئی ہوتی ہے تو دوسری طرف آدھا ملک گرمی کی وجہ سے تندور کی طرح دہک رہا ہوتا ہے۔ موسم کا یہ تغیر کوئی جادو یا اتفاق نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے انسانوں کی وہ مداخلت ہے جو وہ پچھلے کئی سالوں سے درخت کاٹ کر اور ماحول کو گندا کر کے کرتے آ رہے ہیں۔ اب یہ موسمیاتی تبدیلی کوئی آنے والا خطرہ نہیں رہی بلکہ ہمارے سر پر کھڑا ایک بہت بڑا انسانی بحران بن چکی ہے۔
دنیا بھر میں گرمی اتنی بڑھ گئی ہے کہ لو چلنا اور قحط پڑنا اب روز کا معمول بن گیا ہے جس سے کروڑوں غریب لوگوں کی زندگیاں عذاب میں آ گئی ہیں۔ یہ مسئلہ صرف سیلاب یا گلیشیئر پگھلنے تک محدود نہیں ہے، بلکہ دھواں، جنگلات کا خاتمہ، شہروں کا بے ڈھنگا پھیلاؤ اور ہمارا ماحول دشمن طرز زندگی بھی انسانوں کی صحت برباد کر رہا ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ سے انسانوں کی عمریں تیزی سے کم ہو رہی ہیں۔
پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو پچھلے کچھ سال بہت ہی بھیانک رہے ہیں۔ سن 2023 کے بعد، پچھلا سال یعنی 2025 پاکستان کی تاریخ کا دوسرا سب سے گرم ترین سال ریکارڈ کیا گیا اور موجودہ سال یعنی 2026 میں بھی گرمی سے کسی قسم کے ریلیف یا سکون کی کوئی امید نہیں ہے۔
اس سال موسم کے دو بڑے جنوں نے سر اٹھا لیا ہے جنہیں سائنسی زبان میں ’ایل نینو‘ اور ’لانینا‘ کہا جاتا ہے۔ یہ دونوں اصل میں ہسپانوی زبان کے الفاظ ہیں اور یہ بحرالکاہل نامی بڑے سمندر میں جنم لیتے ہیں۔ ان کا کام دنیا بھر کے موسموں کو الٹ پلٹ کرنا، کہیں قحط لانا تو کہیں سیلاب اور طوفان کھڑے کرنا ہے۔
ایل نینو اور لا نینا کے اثرات ہر علاقے کی ساخت کے حساب سے مختلف ہوتے ہیں۔
ان دونوں کا کام ایک دوسرے سے بالکل الٹا ہے۔ ’ایل نینو‘ تب بنتا ہے جب سمندر کا پانی ضرورت سے زیادہ گرم ہو جاتا ہے۔ یہ گرم پانی سمندری ہواؤں کا رخ موڑ دیتا ہے، جس کی وجہ سے پاکستان اور بھارت جیسے ملکوں میں مون سون کی ہوائیں کمزور پڑ جاتی ہیں، بارشیں نہیں ہوتیں، فصلیں سوکھ جاتی ہیں اور قحط کا ڈر پیدا ہو جاتا ہے۔
ایل نینو دراصل قدرت کا وہ جھٹکا ہے جو ایک چھوٹے سے سمندری درجہ حرارت کی تبدیلی سے پوری دنیا کو ہلا دیتا ہے۔
ایل نینو میں گرم پانی معمول سے زیادہ دور تک پھیلتا ہے۔ جس کے نتیجے میں مرطوب اور گرم ہوا پیدا ہوتی ہے جو ماحول کو مزید گرم کر دیتی ہے۔
ایل نینو کرہ ارض کے موسمی نظام کو متاثر کرنے والا بڑا عنصر ہے۔ اس کے اثرات بحرالکاہل تک محدود نہیں رہتے بلکہ زراعت، توانائی کی فراہمی، تجارت، آبی وسائل، سپلائی چین اور لاکھوں لوگوں کے روزگار و معاش پر بھی پڑتے ہیں۔
دوسری طرف ’لانینا‘ اس کے بالکل الٹ ہے، جس میں سمندر کا پانی معمول سے زیادہ ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ اس کے اثر سے پاکستان اور بھارت میں مون سون کی بارشیں اتنی زیادہ ہوتی ہیں کہ سیلاب آ جاتے ہیں اور پہاڑی علاقوں میں زمینیں کھسکنے لگتی ہیں، جسے ہم لینڈ سلائیڈنگ کہتے ہیں۔
گزشتہ سال ایل نینو کمزور ہو گیا تھا اور لانینا کا زور زیادہ تھا، جس کی وجہ سے سمندر ٹھنڈا ہوا اور ہواؤں میں زیادہ نمی آنے سے جنوبی ایشیا میں خوب بارشیں ہوئیں۔
نیشنل اوشینک ایٹماسفیرک ایڈمنسٹریشن (نووا) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، سمندر اب ایک بار پھر تیزی سے گرم ہو رہا ہے اور دنیا کا اوسط درجہ حرارت ایک اعشاریہ دو ڈگری تک بڑھ چکا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ رواں سال مون سون کی بارشیں معمول سے 22 سے 26 فیصد زیادہ شدید ہوں گی اور تباہی لا سکتی ہیں۔
پاکستان کے محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اس سال جون سے ستمبر تک گرمی نارمل سے کہیں زیادہ رہے گی، سردیوں کا موسم بہت چھوٹا ہوگا اور گرمیاں بہت لمبی ہوں گی۔
شہروں میں درختوں کی کٹائی نے اس تپش کو اور بڑھا دیا ہے کیونکہ دن بھر جو دھوپ سیمنٹ کے مکانوں اور سڑکوں پر پڑتی ہے، وہ رات کو بھی ٹھنڈی نہیں ہوتی اور ہیٹ ویو یعنی گرم ہوا کے تھپیڑوں کو مزید خطرناک بنا دیتی ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس سال سُپر ایل نینو آنے کا چانس 63 فیصد ہے، اور اگر ایسا ہوا تو جولائی اور اگست کے مہینے میں درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے۔
رواں سال پڑنے والے یہ گرمی ایک خاموش قاتل ہے۔ اب ہمارا دشمن بدل چکا ہے، اس لیے دنیا کو اپنی بقا کے لیے ابھی سے مضبوط پلاننگ کرنی ہوگی اور نئے قوانین بنانے ہوں گے تاکہ آنے والی نسلوں کو بچایا جا سکے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles