آسٹریلیا کے بعد برطانیہ میں بھی بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی، پاکستان کہاں کھڑا ہے؟

کیا کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا استعمال کرنے کی اجازت ہونی چاہیے؟ چند سال پہلے تک یہ سوال صرف ماہرینِ صحت، والدین اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان زیرِ بحث ہوا کرتا تھا، تاہم اب یہی سوال مختلف ممالک کی قانون ساز اسمبلیوں تک پہنچ چکا ہے۔ آسٹریلیا، انڈونیشیا اور برطانیہ سمیت کئی ممالک میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر مکمل پابندی عائد ہوچکی ہے جب کہ فرانس، جرمنی، ناروے سمیت کئی ممالک میں اس پر غور کیا جارہا ہے۔

کم عمر بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی اور جسمانی صحت پر سوشل میڈیا کے اثرات کے حوالے سے دنیا بھر میں بحث اور تشویش میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

اگرچہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تعلیم، رابطے اور سماجی سرگرمیوں کے لیے اہم مواقع فراہم کرتے ہیں تاہم ماہرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ان پلیٹ فارمز کے عادی بنانے والے مخصوص الگورتھمز اور حد سے زیادہ استعمال سے ذہنی و جسمانی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اسی بنیاد پر کئی ممالک اب بچوں کی سوشل میڈیا تک محدود رسائی یا مکمل پابندی کی سمت بڑھ رہے ہیں۔

حال ہی میں برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ 16 سال سے کم عمر بچے ٹک ٹاک، انسٹاگرام، اسنیپ چیٹ، فیس بک، یوٹیوب اور ایکس جیسے پلیٹ فارمز استعمال نہیں کر سکیں گے۔ واٹس ایپ اور سگنل جیسی میسجنگ ایپس کو اس پابندی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔

برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے پیر کو اس پابندی کا اعلان کرتے ہوئے سوشل میڈیا کے عادی بنانے والے الگورتھمز پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ’تمام والدین کی طرح ان کی بھی یہی خواہش ہے کہ بچے خوش اور محفوظ رہیں لیکن سوال یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے استعمال کے بعد ایسا ممکن ہے؟۔‘

انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کو یقینی بنانا ہوگا کہ کم عمر صارفین نئے اکاؤنٹس نہ بنا سکیں، جب کہ موجودہ اکاؤنٹس بھی بند کیے جائیں گے۔

آسٹریلیا کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا قانون منظور کرنے والا پہلا ملک ہے جس کے لیے ’بلینکٹ بین‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔

دسمبر 2025 میں نافذ کیے گئے قانون کے تحت آسٹریلیا بھر میں فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک، اسنیپ چیٹ، ایکس، ریڈٹ، ٹوئچ اور کِک سمیت متعدد سوشل پلیٹ فارمز پر اکاؤنٹ بنانے کی کم از کم عمر 16 سال مقرر کردی گئی ہے اور خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں پر بھاری جرمانے رکھے گئے ہیں۔

پاکستان میں اگرچہ کم عمر بچوں کی آن لائن سرگرمیوں سے متعلق کوئی باضابطہ قانون سازی تو نہیں ہوسکی تاہم یہ معاملہ پارلیمنٹ اور عدالتی کارروائیوں میں زیرِ بحث آتا رہا ہے۔

جون 2025 میں پیپلز پارٹی کے سینیٹرز مسرور احسن اور سرمد علی نے سینیٹ میں ایک بل پیش کیا تھا جس میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا تھا، تاہم مختلف اعتراضات کی بنا پر اگست 2025 میں یہ بل واپس لے لیا گیا تھا۔

جنوری 2026 میں چند سینیٹرز کی جانب سے جمع کرائے گئے توجہ دلاؤ نوٹس کے ذریعے یہ معاملہ دوبارہ ایوان میں اٹھایا گیا جس پر قائم مقام چیئرمین سینیٹ شیری رحمان نے حکومت اور اپوزیشن پر مشتمل ایک کمیٹی کی تشکیل کی منظوری دی تھی۔

توجہ دلاؤ نوٹس پر گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر فلک ناز نے 17 سالہ ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایسے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کم عمر بچوں کا بغیر نگرانی سوشل میڈیا استعمال سنگین خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔

سینیٹر شیری رحمان کا مؤقف تھا کہ سوشل میڈیا تعلیمی مقاصد کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، اس لیے سینیٹ کو تمام پہلوؤں کا محتاط جائزہ لیتے ہوئے متوازن فیصلہ کرنا چاہیے۔

پاکستان میں یہ معاملہ پارلیمنٹ کے بعد عدالتوں میں بھی پہنچا۔ جنوری 2026 میں لاہور ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو آسٹریلیا اور دیگر ممالک کی طرز پر بچوں کی حفاظت کے لیے قومی پالیسی وضع کرنے کا حکم دیا تھا۔

اگلے ماہ اسلام آباد میں بھی 12 سالہ بچے نے اپنے والد اور وکیل کے توسط سے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، جس میں بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اس کیس میں عدالت نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کو ہدایت کی تھی کہ وہ کم عمر افراد کی سوشل میڈیا تک رسائی محدود کرنے کے ممکنہ اقدامات پر رپورٹ پیش کریں، تاہم اس معاملے پر تاحال کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔

پاکستان میں بچوں کی ڈیجیٹل سیفٹی کے حوالے سے اقدامات ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں تاہم انڈونیشیا پہلا ایشیائی ملک ہے جس نے مارچ 2026 میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے ڈیجیٹل پابندیاں نافذ کیں۔

ملائیشیا نے بھی بچوں کے تحفظ کے قانون کے تحت 16 سال سے کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا رجسٹریشن محدود کی اور عمر کی تصدیق کے لیے سرکاری شناختی دستاویزات کا استعمال لازمی قرار دیا۔

ترکیہ میں پارلیمنٹ اس حوالے سے ایک قانون منظور کرچکی ہے جس پر صدر رجب طیب اردوان کی منظوری کے بعد باقاعدہ عمل درآمد شروع ہوجائے گا۔ اس قانون کے مطابق سوشل میڈیا پر اکاؤنٹ بنانے کی کم از کم عمر 15 سال ہوگی۔ یونان بھی بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی سے متعلق اسی قسم کا قانون منظور کرچکا ہے۔

فرانس، کینیڈا، ناروے، اسپین، ڈنمارک، جرمنی اور پرتگال سمیت متعدد ممالک میں اس اہم مسئلے پر قانون سازی کا عمل جاری ہے۔

برازیل نے حال ہی میں نافذ کیے گئے ڈیجیٹل قانون کے تحت سوشل میڈیا کمپنیوں کے ایسے تمام فیچرز پر پابندی عائد کی ہے جو مخصوص الگورتھم کے تحت کام کرتے ہیں، جس میں سے ایک ’انفینٹی اسکرولنگ‘ یعنی ختم نہ ہونے والی فیڈ اور ’آٹو پلے‘ یعنی ویڈیوز کا خود بخود چلنا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیچرز بچوں کے دماغ میں منشیات کی طرح ’ڈوپامائن‘ پیدا کر کے انہیں عادی بنا دیتے ہیں۔

چین میں پہلے ہی ریاستی سطح پر ’مائنر موڈ‘ نامی سخت ترین قانون اور فریم ورک موجود ہے، جو 18 سال سے کم عمر بچوں کو موبائل کی لت سے بچانے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس قانون کے تحت چین میں فروخت ہونے والے تمام اسمارٹ فونز اور ایپس میں ایک ’مائنر موڈ‘ شامل کیا جاتا ہے جسے والدین ایک کلک سے آن کر سکتے ہیں۔

مائنر موڈ آن ہونے کے بعد موبائل پر مخصوص ایپس اور انٹرنیٹ تک رسائی مکمل طور پر بلاک ہو جاتی ہے۔ البتہ والدین کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ چاہیں تو مائنر موڈ کے وقت کو بڑھا سکتے ہیں یا مخصوص تعلیمی ایپس کو اس پابندی سے استثنیٰ دے سکتے ہیں۔

متحدہ عرب امارات نے بھی کم عمر بچوں کی ڈیجیٹل سیفٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے قانون سازی کی ہے مگر یہ ماڈل آسٹریلیا کے ’بلینکٹ بین‘ کے برعکس ہے۔

آسٹریلوی قانون کے تحت والدین خود بھی چاہیں کہ ان کا 14 سالہ یا کم عمر بچہ سوشل میڈیا استعمال کرے تو وہ قانوناً ایسا نہیں کر سکتے تاہم متحدہ عرب امارات کے قانون کے مطابق 13 سال سے کم عمر بچے والدین کی تحریری اجازت سے سوشل میڈیا استعمال کرسکتے ہیں۔ اس قانون میں ’پیرنٹل کنٹرول‘ یعنی خلاف ورزی پر ٹیک کمپنیوں کے ساتھ والدین کو بھی جواب دہ بنایا گیا ہے۔

یو اے ای حکومت نے ’چائلڈ ڈیجیٹل سیفٹی کونسل‘ قائم بھی کی ہے جس کا کام وزارتوں اور تعلیمی اداروں کے ساتھ مل کر بچوں اور والدین میں انٹرنیٹ کے محفوظ استعمال کا شعور بیدار کرنا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ ٹیکنالوجی کے منفی یا حد سے زیادہ استعمال نوجوانوں کی ذہنی صحت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ ان اثرات میں ڈپریشن، اضطراب (اینزائٹی)، نیند کے مسائل، سائبر بُلنگ اور فحش مواد شامل ہے۔ یہ تمام عوامل پہلے سے کمزور یا سماجی مسائل کے شکار نوجوانوں کے لیے زیادہ خطرناک ہیں۔

امریکی سائیکولوجیکل ایسوسی ایشن نے اپنی ایک ہیلتھ ایڈوائزری میں کہا ہے کہ 11 سے 14 سال بچوں کے دماغ کی تبدیلی کی عمر ہوتی ہے۔ اس عمر میں سوشل میڈیا کا کثرت سے استعمال ان کے پُراعتماد ہونے کی صلاحیت کو ختم کر دیتا ہے۔

امریکی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ نے تو یہ تجویز بھی دی ہے کہ سوشل میڈیا ایپس پر سگریٹ کی ڈبیوں کی طرح ’صحت کے لیے نقصان دہ‘ ہونے کا انتباہ لکھا نظر آنا چاہیے۔

اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسف نے بھی بچوں کے آن لائن استحصال اور نقصان دہ مواد تک آسان رسائی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تاہم ادارے نے مختلف مؤقف اپناتے ہوئے سفارش کی ہے کہ صرف سوشل میڈیا پر پابندی لگانا حل نہیں بلکہ اسے بچوں کے لیے محفوظ بنانا زیادہ ضروری ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles