بنگلہ دیشی کرکٹر نعیم حسن پر پولیس کا بہیمانہ تشدد، ماجرا کیا ہے؟

بنگلہ دیش کے بین الاقوامی کرکٹر نعیم حسن پر پولیس کی جانب سے تشدد کا واقعہ سامنے آیا ہے، جس پر بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے سخت ردعمل دیتے ہوئے واقعے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ پورا واقعہ اس وقت پیش آیا جب نعیم حسن رات کے وقت ڈھاکہ پریمیئر ڈویژن کرکٹ لیگ میں حصہ لینے کے بعد ڈھاکہ ایئرپورٹ سے چٹاگرام میں واقع اپنے گھر واپس جا رہے تھے۔ راستے میں کچھ پولیس والوں نے ان کی گاڑی کو روک لیا اور ان کے ساتھ مار پیٹ شروع کر دی۔

اسپورٹس ویب سائٹ ای ایس پی این کی رپورٹ کے مطابق نعیم حسن نے بتایا کہ انہوں نے بار بار پولیس والوں کو اپنی پہچان کروائی اور بتایا کہ وہ کون ہیں، لیکن اس کے باوجود پولیس نے تشدد جاری رکھا۔

نعیم حسن نے سنگین الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ پولیس والے مجھے لاٹھیوں اور پلاسٹک کے پائپوں سے پیٹتے رہے۔ اس کے بعد وہ مجھے ایک سی این جے (آٹو رکشہ) میں بٹھا کر تھانے لے گئے۔ تھانے میں بھی جب میں نے اپنی بات کہنے کی کوشش کی تو انہوں نے مجھے آنکھیں نیچے رکھنے کو کہا۔

نعیم حسن نے مزید کہا کہ، اگر وہ سچ میں پولیس افسران تھے تو انہوں نے مجھے پولیس کی سرکاری گاڑی میں بٹھانے کے بجائے سی این جی میں کیوں بٹھایا؟ میں اس پورے معاملے کی بالکل غیر جانبدارانہ انکوائری چاہتا ہوں۔

بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اور سابق کرکٹر تمیم اقبال نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔

تمیم اقبال نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ رات نعیم حسن کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا وہ کسی بھی حال میں قابل قبول نہیں ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی میں نے گزشتہ رات نعیم سے فون پر بات کی اور انہیں ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ میں نے اس معاملے پر بورڈ کے دیگر حکام سے بھی بات چیت کی ہے اور اس پر مزید کارروائی کی جائے گی۔

تمیم اقبال کے بیان سے پہلے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے بھی ایک باقاعدہ بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ چٹاگرام میں جمعہ کے روز پولیس کی جانب سے بین الاقوامی کھلاڑی نعیم حسن کے ساتھ کیے گئے سلوک پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ ایک بین الاقوامی کھلاڑی کے ساتھ ایسا واقعہ بالکل برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ اس معاملے پر فوری غور کرنے کی ضرورت ہے اور بورڈ اس واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی امید رکھتا ہے۔

واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ کرکٹ شائقین اور سابق کھلاڑیوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور اگر کسی نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا ہے تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔

تاحال پولیس کی جانب سے واقعے پر کوئی تفصیلی مؤقف سامنے نہیں آیا ہے، تاہم بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے سخت ردعمل کے بعد اس معاملے نے قومی سطح پر توجہ حاصل کر لی ہے۔ اب سب کی نظریں حکومتی تحقیقات پر مرکوز ہیں تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ اس رات حقیقت میں کیا پیش آیا اور ذمہ دار افراد کے خلاف کیا کارروائی کی جائے گی۔

واضح رہے کہ نعیم حسن نے سال 2018 میں اپنے بین الاقوامی کرکٹ کیریئر کا آغاز کیا تھا اور وہ اب تک بنگلہ دیش کی طرف سے 14 ٹیسٹ میچ کھیل چکے ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles