
پاکستان کا مالی سال 27-2026 کا وفاقی بجٹ آج قومی اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں پیش کیا جائے گا، پانچ کھرب روپے کے خسارے والے اس بجٹ کا کل حجم 185 کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے تاہم وفاقی کابینہ نے بجٹ مسودے کی منظوری دے دی، جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ بھی منظور کرلیا گیا ہے۔
بجٹ پیش کیے جانے سے قبل جمعے کو وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا، جس دوران کابینہ نے آئندہ مالی سال کے بجٹ دستاویزات اور فنانس بل مسودے کی باقاعدہ منظوری دے دی جب کہ وزیراعظم نے بجٹ دستاویز پر دستخط کر دیے۔
اجلاس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے پر تفصیلی غور کیا گیا، جس کے بعد ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اور پنشن میں بھی 7 فیصد اضافے کی منظوری دی گئی۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں دو فیز میں اضافہ ہوگا، گریڈ ایک سے 16 کے ملازمین کی تنخواہوں میں زیادہ اضافہ ہوگا۔
اجلاس میں سرکاری ملازمین کے ٹیکسز 35 فیصد سے کم کر کے 29 فیصد کرنے کی منظوری دی گئی جب کہ ایک نیا سلیب بھی بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کابینہ کے ارکان کو بجٹ کے خدوخال پر تفصیلی بریفنگ دی۔ وزیراعظم نے کابینہ اجلاس کے بعد وزیرِ خزانہ کی بجٹ تقریر طلب کرلی، جس میں کابینہ ممبران کے بعض مطالبات کی روشنی میں ردو بدل کا امکان ہے۔
قومی اسمبلی کے بعد یہ تجاویز شام کو ہونے والے سینیٹ کے اجلاس میں بھی ارکان کے سامنے رکھی جائیں گی۔
نئے بجٹ میں ملک کے تنخواہ دار طبقے کے لیے بڑی خوشخبریاں شامل ہیں کیوں کہ ان کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کا قوی امکان ہے، جب کہ انکم ٹیکس کی ادائیگی میں بھی چھوٹ دی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی عوام کے لیے ایک اور اچھی خبر یہ ہے کہ اسٹیشنری اور سولر پلیٹس مہنگی ہونے کا خطرہ بھی ٹل گیا ہے۔
تنخواہ دار طبقے کو انکم ٹیکس میں 10 فیصد تک ریلیف ملنے کا امکان ہے اور ان کے لیے تقریباً 60 ارب روپے کے ٹیکس ریلیف پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق، آئندہ مالی سال میں تنخواہ دار طبقے کو تقریباً ساٹھ ارب روپے کا ٹیکس ریلیف دینے اور انکم ٹیکس سلیب کی تعداد چھ سے بڑھا کر آٹھ کرنے کی تجاویز ہیں۔
خاص طور پر ایسے ملازمین جن کی ماہانہ آمدن 1 لاکھ 83 ہزار روپے سے زائد ہے، ان کے لیے ایک خصوصی ریلیف پیکج زیرِ غور ہے۔ ماہانہ 2 لاکھ 67 ہزار روپے کمانے والوں کے لیے ٹیکس کی شرح 25 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کرنے کی تجویز ہے، جس سے 4 لاکھ سے زائد ملازمین فائدہ اٹھا سکیں گے۔
تاہم، زیادہ آمدنی والوں کے لیے ٹیکس کی شرح زیادہ رکھی گئی ہے، جس میں ماہانہ 4 لاکھ 67 ہزار پر 29 فیصد، 5 لاکھ 83 ہزار پر 32 فیصد، اور اس سے زائد ماہانہ یا سالانہ 70 لاکھ روپے سے زائد آمدن پر 35 فیصد ٹیکس برقرار رہے گا۔
سالانہ ایک کروڑ روپے سے زائد کمانے والوں پر سرچارج ختم کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔
پراپرٹی کی خرید و فروخت پر ٹرانزیکشن ٹیکس اور صنعتی شعبے کے خام مال پر ڈیوٹی میں کمی کا امکان ہے، لیکن بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے سپر ٹیکس اور کارپوریٹ انکم ٹیکس کم کرنے کی تجاویز کو مسترد کر دیا ہے۔
اس کے علاوہ، بیروزگاری کے خاتمے کے لیے نئے مالی سال کے دوران ملک میں 20 لاکھ نئے روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔
اس نئے بجٹ میں حکومت نے ایک طرف جہاں عوام اور ملازمین کو کچھ رعایتیں دینے کی کوشش کی ہے تو دوسری طرف معیشت کو چلانے کے لیے نئے ٹیکس بھی تجویز کیے ہیں۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق حکومت نے نئے مالی سال کے لیے معاشی شرح نمو کا ہدف 4 فیصد جبکہ مہنگائی کی شرح کو 8.2 فیصد تک محدود رکھنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
اس بجٹ میں وفاق کا مالیاتی خسارہ 51 کھرب روپے سے زائد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جسے پورا کرنے کے لیے حکومت مختلف ذرائع پر انحصار کرے گی۔
آج نیوز کو موصول بجٹ دستاویز کے مطابق، حکومت نے ٹیکسوں کی مد میں 15 ہزار 267 ارب روپے جمع کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے جبکہ نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 2 ہزار 767 ارب روپے رہنے کا امکان ہے۔
پٹرولیم لیوی سے حکومت کا 1 ہزار 727 ارب روپے وصول کرنے کا ارادہ ہے، جبکہ پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ لیوی کو دگنا کرنے کی تجویز دی گئی ہے جس سے 90 ارب روپے جمع کیے جائیں گے۔
اس کے علاوہ 2 ہزار سی سی اور اس سے بڑی گاڑیوں پر 10 سے 19.5 فیصد تک کاربن لیوی عائد کی جائے گی، اور بجٹ میں مجموعی طور پر 220 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے کی تجاویز شامل ہیں۔
اخراجات کے محاذ پر، حکومت کو سب سے بڑا چیلنج قرضوں کی ادائیگی کا ہے، جس کے لیے بجٹ میں 7 ہزار 824 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، جبکہ ملکی دفاع کے لیے دفاعی بجٹ کو بڑھا کر تقریباً 3 ہزار ارب روپے کیا جا رہا ہے۔
عالمی تجارت کے حوالے سے برآمدات کا ہدف 32.8 ارب ڈالر اور درآمدات کا تخمینہ 70 ارب ڈالر رکھا گیا ہے، جس کے باعث تجارتی خسارہ 37 ارب ڈالر سے زائد رہنے کا خدشہ ہے۔
ترقیاتی کاموں اور روزگار کے حوالے سے حکومت نے مجموعی قومی ترقیاتی پلان کا تخمینہ 3 ہزار 669 ارب روپے لگایا ہے، جس میں وفاقی ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کا حجم 1 ہزار ارب روپے اور صوبائی ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ہزار 218 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
تاہم، بچت پالیسی کے تحت وفاق اور صوبے ترقیاتی بجٹ میں 1046 ارب روپے کی بچت کریں گے، جس کے باعث پنجاب کے ترقیاتی بجٹ میں 701 ارب روپے، سندھ میں 110 ارب روپے اور خیبر پختونخوا کے ترقیاتی بجٹ میں 109 ارب روپے کمی کی تجویز ہے۔
بجٹ قوانین کے مطابق، دفاع اور داخلہ کے سوا کوئی نیا ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں ہوگا اور صرف جاری اسکیموں کو مکمل کیا جائے گا۔
اس سب کے باوجود، حکومت کا ہدف ہے کہ نئے مالی سال میں 20 لاکھ نئی ملازمتیں پیدا کی جائیں، جن میں خدمات کے شعبے میں 11 لاکھ، صنعتی شعبے میں 5 لاکھ (جہاں بڑی صنعتوں کی ترقی کا ہدف 4.5 فیصد اور صنعتی شرح نمو 4 فیصد مقرر ہے) اور زرعی شعبے میں 4 لاکھ افراد کو روزگار فراہم کیا جائے گا، جبکہ زرعی ترقی کا ہدف 3.8 فیصد اور خدمات کے شعبے کی کارکردگی 4.2 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے۔