
جنوبی کوریا کی ایک عدالت نے سابق صدر یون سک یول کو شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ میں ڈرون بھیجنے کی مبینہ سازش اور مارشل لا کے لیے ماحول بنانے کے الزام میں 30 سال قید کی سزا سنا دی۔
خبر رساں ادارے یونہاپ کے مطابق سیئول سینٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ نے جمعہ کو سابق صدر یون سک یول کو اختیارات کے ناجائز استعمال اور دشمن کی معاونت کے الزامات میں قصوروار قرار دیتے ہوئے 30 سال قید کی سزا سنائی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یون سک یول اکتوبر 2024 میں شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ میں بھیجے گئے ڈرونز کے آپریشن کی منصوبہ بندی میں ابتدا سے ہی شریک تھے۔ استغاثہ کا مؤقف تھا کہ اس کارروائی کا مقصد دسمبر 2024 میں مارشل لا نافذ کرنے کے لیے جواز پیدا کرنا تھا۔
سابق صدر یون سک یول نے اپنے خلاف عائد تمام الزامات کی تردید کی ہے۔ ان کے وکلا کا کہنا ہے کہ انہوں نے نہ تو ڈرون آپریشن کا حکم دیا اور نہ ہی بعد میں اس کی منظوری دی۔
دفاعی ٹیم کے مطابق یہ کارروائی مارشل لا سے کسی طور منسلک نہیں تھی بلکہ شمالی کوریا کی جانب سے کئی ماہ تک سرحد پار کچرے سے بھرے غبارے بھیجنے کے جواب میں کی گئی تھی۔
یاد رہے کہ جنوبی کوریا کے پراسیکیوٹرز نے رواں سال اپریل میں یون سک یول کے لیے 30 سال قید کی سزا کا مطالبہ کیا تھا۔
یہ فیصلہ معزول قدامت پسند رہنما کے خلاف آنے والے عدالتی فیصلوں کی ایک کڑی ہے۔ یون سک یول، جو ماضی میں جنوبی کوریا کے اعلیٰ ترین پراسیکیوٹر بھی رہ چکے ہیں، دسمبر 2024 میں مارشل لا نافذ کرنے کی کوشش کے بعد شدید سیاسی بحران کا سبب بنے تھے، جس نے ایشیا کی چوتھی بڑی معیشت کو کئی دہائیوں کے بدترین سیاسی انتشار سے دوچار کر دیا۔
اس سے قبل فروری میں بھی ایک جنوبی کوریائی عدالت نے مارشل لا کی کوشش سے متعلق بغاوت کی قیادت کرنے کے جرم میں یون سک یول کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
یون سک یول کو گزشتہ سال اس وقت عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا جب آئینی عدالت نے ان کے مواخذے کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ اس کے بعد ملک میں قبل از وقت انتخابات کرائے گئے، جن میں لبرل رہنما اور موجودہ صدر لی جے میونگ کامیاب ہوئے۔
سابق صدر یون سک یول اس وقت پہلے ہی حراست میں ہیں اور انہیں جمعہ کے عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کا حق حاصل ہے۔