
ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جدید فضائی دفاعی نظام نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی ایم کیو 9 ریپر ڈرون کو مار گرایا ہے، جس کی ویڈیو جاری کردی گئی ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی جنوبی ایران کے علاقے میں حالیہ امریکی حملوں کے بعد بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران کی گئی ہے۔
ایران کی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے بدھ کے روز جاری ایک بیان میں کہا کہ امریکی ریپر ڈرون خلیج فارس کے شمالی حصے سے جنگی علاقے کے قریب پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا، جسے ایرانی فضائی دفاعی یونٹس نے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ڈرون کو صوبہ بوشہر کے شہر جم کے قریب فضائی حدود میں مار گرایا گیا، امریکی ڈرون آبنائے ہرمز کے قریب حساس علاقے میں پرواز کر رہا تھا، جسے قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتے ہوئے کارروائی کی گئی۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ڈرون کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب خطے میں فوجی سرگرمیاں جاری تھیں۔
دوسری جانب امریکی فوج کی جانب سے فوری طور پر اس دعوے کی آزادانہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ نے حالیہ دنوں میں ایران کے خلاف کارروائیوں اور آبنائے ہرمز کے قریب فوجی آپریشنز کی تصدیق کی ہے۔
یاد رہے کہ پیر کی شب آبنائے ہرمز کے اوپر ایک امریکی فوجی اپاچی ہیلی کاپٹر کے حادثے کے بعد امریکا نے بدھ 10 جون 2026 کو جنوبی ایران کے مختلف علاقوں پر حملے کیے ہییں تاہم ایرانی حکام نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں کے جواب میں ایرانی افواج نے کارروائیاں کیں، جن کے دوران امریکی ایم کیو 9 ریپر ڈرون کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
فوجی ماہرین کے مطابق ریپر امریکی فضائیہ اور انٹیلی جنس اداروں کا ایک جدید ڈرون ہے جو نگرانی، جاسوسی اور ہدفی حملوں کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس ڈرون کی تباہی کی خبر خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اہم سمجھی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے، اور اس خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی بین الاقوامی سطح پر تشویش کا باعث بن رہی ہے۔