
ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے امریکا پہنچنے والی عراقی قومی فٹبال ٹیم کو ایئرپورٹ پر غیر متوقع صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔ شکاگو ائیرپورٹ پر امریکی حکام نے ٹیم کے اہم کھلاڑی ایمن حسین سے تقریباً سات گھنٹے پوچھ گچھ کی، بعد ازاں انہیں ملک میں داخلے کی اجازت دے دی گئی، تاہم ٹیم کے فوٹوگرافر کو امریکا میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔
عراقی اولمپک کمیٹی کے ایک عہدیدار کے مطابق عراقی فٹبال ٹیم ہفتے کو امریکا پہنچی تو ٹیم کے فارورڈ کھلاڑی ایمن حسین کو شکاگو کے اوہیئر انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر امیگریشن حکام نے روک لیا۔
عہدیدار نے بتایا کہ امریکی حکام نے 30 سالہ ایمن حسین سے تقریباً سات گھنٹے تک پوچھ گچھ کی، جس کے بعد انہیں امریکا میں داخلے کی اجازت دے دی گئی۔ ان کے مطابق دورانِ تفتیش کھلاڑی کے موبائل فون کی بھی تلاشی لی گئی۔
عراقی ٹیم کے فوٹوگرافر طلال صلاح کو بھی 10 گھنٹے سے زائد وقت تک روک کر رکھا گیا اور موبائل فون کی جانچ پڑتال کی گئی جس کے بعد امریکی حکام نے انہیں امریکا میں داخلے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔
اس واقعے پر فی الحال عراقی فٹبال ایسوسی ایشن یا ایمن حسین کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ دوسری جانب خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) اور محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے بھی اس حوالے سے تبصرے کی درخواستوں کا فوری جواب نہیں دیا۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹورنامنٹ کے آغاز میں ایک ہفتے سے بھی کم وقت باقی ہے۔
عراقی میڈیا نے بھی اس واقعے کو رپورٹ کیا ہے، جب کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں شائقین کی بڑی تعداد کو ائیرپورٹ پر ٹیم کا استقبال کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
ایمن حسین عراقی فٹبال کے اسٹار اور اہم ترین کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ پلے آف میچ میں بولیویا کے خلاف ان کے فیصلہ کُن گول کی بدولت ہی عراق کی ٹیم نے 40 سال کے طویل انتظار کے بعد ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کیا ہے۔
اس سے قبل عراقی ٹیم نے آخری بار 1986 کے ورلڈ کپ میں حصہ لیا تھا۔ ورلڈ کپ میں عراق کو گروپ آئی میں فرانس، سینیگال اور ناروے کا سامنا کرنا ہوگا۔
امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں منعقد ہونے والا ٹورنامنٹ جمعرات سے شروع ہورہا ہے، جب کہ عراق کے عوام کو اس ٹیم سے بڑی توقعات وابستہ ہیں۔