
پاکستان میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ (محکمہ موسمیات) نے ملک کے مختلف حصوں میں 7 سے 12 جون کے دوران شدید گرمی کی لہر کی وارننگ جاری کی ہے جس کے مطابق کئی علاقوں میں درجہ حرارت معمول سے 4 سے 6 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ہوسکتا ہے جب کہ بعض اضلاع میں پارہ 51 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا بھی امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق خیبر پختونخوا کے اضلاع پشاور، مردان، بنوں، کرک، لکی مروت اور ڈیرہ اسماعیل خان میں 8 سے 11 جون کے دوران زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 41 سے 46 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہنے کا امکان ہے، جو معمول سے 4 سے 6 ڈگری زیادہ ہوگا۔
صوبے کے شمالی علاقوں چترال، دیر اور سوات کے علاوہ گلگت بلتستان میں 8 سے 10 جون کے دوران درجہ حرارت 37 سے 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات نے اسلام آباد، راولپنڈی، اٹک، چکوال، جہلم، گجرات، میرپور، بھمبر، کوٹلی، باغ اور مظفرآباد سے متعلق بتایا ہے کہ ان علاقوں میں 8 سے 10 جون کے دوران درجہ حرارت 41 سے 44 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق پنجاب کے میدانی علاقوں میں گرمی کی شدت مزید بڑھنے کا امکان ہے جب کہ لاہور، اوکاڑہ، قصور، فیصل آباد، سرگودھا، خوشاب، میانوالی، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، ساہیوال، ڈیرہ غازی خان، ملتان، خانیوال، پاکپتن، رحیم یار خان، راجن پور، بہاولپور، بہاولنگر، بھکر، لیہ اور کوٹ ادو سمیت مختلف اضلاع میں 8 سے 11 جون کے دوران درجہ حرارت 44 سے 48 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے۔
موسم کی پیشگوئی کے مطابق سندھ اور بلوچستان کے بعض اضلاع سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہیں۔
سکھر، شکارپور، قمبر شہدادکوٹ، جیکب آباد، لاڑکانہ، موئن جو دڑو، دادو، شہید بینظیر آباد، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، سبی، تربت اور پنجگور میں 7 سے 12 جون کے دوران درجہ حرارت 48 سے 51 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
کراچی میں بھی 8 سے 12 جون کے دوران زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 40 سے 43 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات نے اپنی ایڈوائزری میں کہا ہے کہ گرمی کی شدت کے باعث رات کے اوقات میں بھی درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہ سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی کے باعث جنوبی پنجاب اور سندھ کے مختلف علاقوں میں گرد آلود ہوائیں اور مٹی کے طوفان بھی آ سکتے ہیں۔
محکمہ موسمیات نے عوامکو احتیاط برتنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک بلا ضرورت دھوپ میں نکلنے سے گریز کیا جائے۔ کسانوں کو بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ موجودہ موسمی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کریں اور مویشیوں کی حفاظت کے لیے بھی ضروری اقدامات کریں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق شدید گرمی کے باعث ملک میں بجلی کی طلب اور استعمال میں بھی اضافہ متوقع ہے۔
پاکستان میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ نے رواں ہفتے جاری کیے گئے موسمی جائزے میں جون سے اگست کے دوران ملک کے بیشتر حصوں میں معمول سے کم بارشوں اور معمول سے زیادہ درجہ حرارت کی پیش گوئی کی تھی۔
موسمی عوامل کے باعث جون، جولائی اور اگست کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں معمول کے مطابق یا اس سے کم بارش کی توقع ظاہر کی گئی ہے، جب کہ پنجاب کے شمال مشرقی علاقوں میں بارشوں میں سب سے زیادہ کمی ریکارڈ ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے جائزے کے مطابق پنجاب، سندھ، جنوبی خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں معمول سے کم بارشوں کے امکانات زیادہ ہیں، جب کہ پورے ملک میں اوسط درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کی توقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق درجہ حرارت میں سب سے زیادہ اضافہ ملک کے شمال مشرقی حصوں، خصوصاً مشرقی گلگت بلتستان، کشمیر اور شمالی پنجاب سے ملحقہ علاقوں میں ریکارڈ کیا جا سکتا ہے۔