احتجاج میں کیا کرنا ہے اور کیا نہیں؟ کاکروچ جنتا پارٹی کی مظاہرین کے لیے ہدایات جاری

بھارت کی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نیٹ، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی جیسے اہم قومی امتحانات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف نئی دہلی کے تاریخی مقام جنتر منتر پر ایک بڑا احتجاج کر رہی ہے۔ اس مظاہرے کے پیش نظر کاکروچ جنتا پارٹی نے اپنے حامیوں کے لیے باقاعدہ رہنما اصول یعنی کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا، اس کی فہرست جاری کی ہے۔

تنظیم نے اپنے حامیوں پر زور دیا ہے کہ وہ مظاہرے کے دوران پرامن اور منظم رہیں تاکہ امن و امان کا کوئی مسئلہ پیدا نہ ہو۔

کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے تک نہیں رکیں گے اور اب وقت آ گیا ہے کہ اس چھوٹے سے مذاق کو ایک انقلاب میں بدل دیا جائے، اس لیے پرامن اور محبت بھرے احتجاج کے ساتھ دلی کی سڑکوں پر نکلنے کے لیے تیار ہو جائیں۔

مظاہرین کے لیے جاری کردہ ہدایات میں قومی پرچم ’ترنگا‘ اور کوئی کتاب ساتھ لانے کا کہا گیا ہے، ساتھ ہی ہر چیز کی ویڈیو ریکارڈ کرنے، اور کسی شرپسند کی موجودگی پر انتظامیہ یا پولیس کو اطلاع دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی گرمی سے بچنے کے لیے سن اسکرین لگانے، ٹوپی پہننے اور پانی ساتھ رکھنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔

دوسری طرف، رہنما اصولوں میں سختی سے منع کیا گیا ہے کہ مظاہرین اکیلے نہ آئیں، کسی قسم کے دباؤ یا اشتعال انگیزی کا جواب نہ دیں، بھوکے پیٹ نہ آئیں، پھول پھینکنے کے بجائے انہیں پرامن طریقے سے پیش کریں اور کسی بھی قسم کے پرتشدد یا خلل ڈالنے والے رویے سے دور رہیں۔

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے بھی ہفتے کی صبح امریکا سے بھارت پہنچنے کے بعد احتجاج میں پہنچے۔

اس سے قبل ان کے حامیوں نے دلی ایئرپورٹ پر جمع ہونے کی اپیل کی تھی لیکن ابھیجیت دیپکے نے عوامی سہولت اور سیکیورٹی انتظامات کے پیش نظر لوگوں کو وہاں آنے سے منع کر دیا تھا۔

اپنے ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا تھا کہ عوام کا ردعمل ہماری سوچ سے کہیں زیادہ ہے، اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا ایئرپورٹ پر جمع ہونا ممکن نہیں ہے کیونکہ اس سے عوام اور سیکیورٹی فورسز کے لیے مشکلات پیدا ہوں گی، اس لیے براہ کرم دلی ایئرپورٹ پر جمع نہ ہوں۔

دلی پہنچنے کے بعد انہوں نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ میں دلی پہنچ چکا ہوں اور جنتر منتر پر آپ سب سے ملنے کا منتظر ہوں، اپنے ساتھ ترنگا اور کتاب لانا نہ بھولیں اور ہمدردی و شکرگزاری کے طور پر پولیس اہلکاروں کو پھول پیش کریں کیونکہ ہمیں اس تحریک کو محبت اور امن کے ساتھ آگے بڑھانا ہے۔

اس احتجاجی مہم کو نامور سماجی کارکن سونم وانگچک کی حمایت بھی حاصل ہو گئی ہے جنہوں نے عوامی سطح پر اس تحریک کا ساتھ دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اگر ابھیجیت دیپکے کو گرفتار کیا گیا تو وہ چھ ہفتوں کی بھوک ہڑتال پر بیٹھ جائیں گے۔

دوسری طرف، دلی پولیس نے اس ڈیجیٹل گروپ کی احتجاجی کال کے بعد پورے دارالحکومت میں سیکیورٹی کے انتظامات انتہائی سخت کر دیے ہیں اور اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ، دلی کی سرحدوں اور دیگر حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق، پولیس کا کہنا ہے کہ اگرچہ انہیں احتجاج کی کوئی باقاعدہ درخواست موصول نہیں ہوئی، لیکن سوشل میڈیا کی نگرانی اور انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر وسیع انتظامات کیے گئے ہیں اور نئی دہلی کے اضلاع میں ایک ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ ایئرپورٹ کے اطراف رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں اور گاڑیوں کی چیکنگ کا عمل تیز کر دیا گیا ہے تاکہ امن و امان برقرار رہے۔

تاہم، سی جے پی کے ترجمان سورو داس کا کہنا ہے کہ انہیں پولیس سے احتجاج کی اجازت مل چکی ہے۔

واضح رہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی کا آغاز دراصل گزشتہ ماہ بھارتی عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس سوریا کانت کے ایک ریمارکس کے بعد طنزیہ طور پر ہوا تھا جس میں مبینہ طور پر کچھ افراد کو کاکروچ اور طفیلیا کہا گیا تھا، جو اب ایک بڑی نوجوانوں کی تحریک بن چکی ہے۔

بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس میں پارٹی کے ترجمان نے کہا کہ یہ پارٹی اور یہ نوجوانوں کی تحریک نظام سے جوابدہی چاہتی ہے، نظام کے اندر کی خرابی بہت گہری ہو چکی ہے اور لوگ سوشل میڈیا پر اس پارٹی کی حمایت کر کے اس کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔

بھارت میں اپوزیشن کے رہنما راہول گاندھی نے بھی اس مسئلے پر مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے 17 مئی کو ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ دھرمیندر پردھان بھارت کے ہر عمر کے طلبہ کو ایک ساتھ فیل کر چکے ہیں۔

پبلک پالیسی تھنک ٹینک ’دی ایشیا گروپ‘ کے پارٹنر اشوک ملک نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امتحانات میں یہ ناانصافی کافی تباہ کن رہی ہے اور شاید یہ پچھلے بارہ سالوں میں حکومت کو درپیش سب سے بڑا چیلنج ہے،۔

اس کے برعکس، انسٹی ٹیوٹ آف ساؤتھ ایشین اسٹڈیز کے سینئر ریسرچ فیلو رونو جے سین کا ماننا ہے کہ بھارت ایک بہت بڑا اور پیچیدہ ملک ہے جہاں کسی بھی سیاسی گروپ کو اثر انداز ہونے کے لیے زمین پر سنجیدہ موجودگی اور عوامی طور پر متحرک ہونے کی ضرورت ہوتی ہے، صرف آن لائن یا سوشل میڈیا کی موجودگی سے کوئی بڑا سیاسی انقلاب نہیں لایا جا سکتا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles