
سورج سے کم ترین فاصلے پر پہنچنے کی ریکارڈ کوشش جاری ہے، ناسا کا اسپیس کرافٹ سورج کے قریب جائے گا۔
تحقیقاتی خلائی جہاز پارک سولر زمین کے بیرونی مدار سے نکلے گا، خلائی جہاز کو اب تک کی گئی کاوشوں میں سورج کے سب سے زیادہ قریب پہنچنے اور سب سے زیادہ تپش کا سامنا ہوگا۔
پارک سولر سے سائنسدانوں کا رابطہ کئی روز سے منقطع ہوگیا ہے، انہیں اب 28 دسمبر کو سگنل کا اننتظار ہے، اگر وہ آگیا تو ٹھیک بصورت دیگر خلائی جہاز کو تباہ سمجھا جائے گا۔
واضح رہے کہ عالمی ناسا کا ایک خلائی جہاز سورج کے انتہائی قریب پہنچ کر نئی تاریخ رقم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
’پارکر سولر پروب‘ نامی خلائی جہاز سورج سے خارج ہونے والے انتہائی شدید درجہ حرارت اور بے تحاشہ تابکاری کو برداشت کرتے ہوئے سورج کی بیرونی فضا کی جانب مسلسل بڑھ رہا ہے۔
سورج کے نزدیک شدید موسمی حالات اور درجہ حرارت کے باعث یہ خلائی جہاز گذشتہ کئی دن سے زمین سے رابطہ بھی نہیں کر سکا، فی الحال سائنسدان مشن کی جانب سے ملنے والے سگنل کے منتظر ہیں۔ سائنسدانوں کو امید ہے کہ یہ سگنل 27 دسمبر تک مل سکتا ہے۔
ملنے والے سگنل سے یہ معلوم ہو سکے گا کہ آیا یہ مشن سورج کے انتہائی قریب پہنچنے کے لیے درکار سخت ترین مراحل عبور کرنے میں کامیاب ہوسکا یا نہیں؟
واضح رہے کہ مشن سورج کی سطح سے 3.8 ملین میل (6.2 ملین کلومیٹر) کے فاصلے پر موجود ہے، اس مشن سے سائنسدانوں کو یہ جاننے میں بھی مدد ملے گی کہ سورج درحقیقت کیسے کام کرتا ہے؟