
فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے لبنان میں فوری طور پر لڑائی بند کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی لبنان میں کشیدگی بڑھانے کا کوئی جواز نہیں، جبکہ ایران اور امریکا کے درمیان فوری معاہدہ خطے کے امن کے لیے ناگزیر ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ انہوں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، عمان کے سلطان ہیثم بن طارق ، اماراتی صدر محمد بن زید النہیان اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ٹیلیفونک گفتگو کی۔
میکرون کے مطابق انہوں نے تمام رہنماؤں کو ایک ہی پیغام دیا کہ موجودہ صورتحال میں امریکا اور ایران کے درمیان جلد از جلد معاہدہ ہونا انتہائی ضروری ہے اور اس موقع سے فوری فائدہ اٹھایا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سب سے پہلی ترجیح جنگ بندی ہونی چاہیے، جبکہ آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی قانون کے مطابق بغیر کسی شرط کے فوری طور پر کھولنا بھی ضروری ہے۔
فرانسیسی صدر کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کے بعد ایران کے نیوکلیئر پروگرام، بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے کے امن و استحکام سے متعلق جامع مذاکرات کا آغاز کیا جانا چاہیے۔
ایمانویل میکرون نے کہا کہ فرانس اس پورے عمل میں اپنا مکمل کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فرانس برطانیہ کے ساتھ قائم آزاد کثیرالقومی مشن کے ذریعے بحری ٹریفک بحال کرنے، نیوکلیئر مذاکرات میں تکنیکی معاونت فراہم کرنے اور خطے کے لیے نئے سیکیورٹی فریم ورک کی تشکیل میں تعاون کرے گا۔
انہوں نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے لبنان کا خصوصی ذکر بھی کیا اور کہا کہ علاقائی استحکام کا آغاز لبنان سے ہونا چاہیے، جہاں فوری طور پر ہتھیار خاموش ہونا ضروری ہیں۔
میکرون نے جنوبی لبنان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں مزید اضافہ کسی صورت قابلِ جواز نہیں۔
فرانسیسی صدر نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ فرانس لبنان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور ریاستی رٹ کی بحالی کے لیے لبنانی حکام کی حمایت جاری رکھے گا۔