آبنائے ہرمز میں کسی قسم کا ٹول سسٹم قبول نہیں: امریکا کی عمان کو دھمکی

امریکا نے عمان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی قسم کا ٹول سسٹم قبول نہیں، ٹول لگانے والوں کو سختی سے ٹارگٹ کریں گے، اس کام میں کوئی بھی پارٹنر ہوا تو اس پر پابندیاں لگائیں گے۔

جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ امریکا آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر کسی بھی غیرقانونی کنٹرول یا ٹولنگ سسٹم کی مخالفت کرتا ہے۔

امریکی وزیر خزانہ نے خاص طور پر عمان کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ عمان کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اگر کسی نے آبنائے ہرمز میں ٹول وصولی یا ایران کے اس نظام کو سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی تو امریکی محکمہ خزانہ ایسے تمام عناصر کو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر نشانہ بنائے گا۔

اسکاٹ بیسنٹ نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ اس معاملے میں شامل یا اس کی حمایت کرنے والے ممالک اور اداروں کو بھی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

امریکی حکام نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ ایران کی جانب سے عالمی تجارت اور بحری آمدورفت میں رکاوٹ ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کیا جائے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ تہران کی جانب سے خطے میں دہشت اور دباؤ کی پالیسی اب ختم ہونے کے قریب ہے جب کہ امریکا خطے میں آزادانہ بحری تجارت کے تحفظ کے لیے اقدامات جاری رکھے گا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز میں ایران، امریکا اور خطے کے دیگر ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ ایران کے ساتھ امریکا-اسرائیل جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز بڑھتی ہوئی کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی ہے، جس کی وجہ سے علاقائی توانائی کی ترسیل میں خلل پڑا ہے اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کا تقریباً 20 فیصد حصہ روزانہ اس آبنائے سے گزرتا ہے، اور بڑھتی ہوئی عدم تحفظ کی وجہ سے بحری جہاز رانی اور انشورنس دونوں کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔

آبنائے ہرمز پر کشیدگی: ایران کا امریکی کارروائیوں پر سخت ردعمل

دوسری جانب ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز پر اپنی خود مختاری کو کمزور کرنے کی کسی بھی کوشش کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان خطے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے جمعرات کے روز اپنے بیان میں کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کو ایک اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کے طور پر مکمل طور پر اپنے دائرہ اختیار میں رکھتا ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے امریکا پر الزام عائد کیا کہ حالیہ کارروائیوں کے ذریعے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی گئی ہے اور خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھایا جا رہا ہے۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ کے مطابق ایران کی خود مختاری اب اس اہم آبی راستے پر مستحکم ہو چکی ہے اور کسی بھی بیرونی طاقت کو اس میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکا نے جنوبی ایران کے شہر بندر عباس کے قریب فضائی کارروائیاں کیں، جس کے بعد ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے بھی جوابی کارروائی میں ایک امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔

ایران نے امریکا پر جنگ بندی کی خلاف ورزی اور مسلسل دھمکیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری صورت حال بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے مترادف ہے اور ایران اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

24 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز سے 26 جہاز گزرے: پاسدارانِ انقلاب

ادھر ایران کے پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 26 تجارتی جہاز اور آئل ٹینکرز آبنائے ہرمز سے ایران کی اجازت اور سیکیورٹی کوآرڈینیشن کے تحت گزرے ہیں۔

ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی کے مطابق آئی آر جی سی نیوی کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 26 جہازوں میں آئل ٹینکرز، کنٹینر شپ اور دیگر تجارتی جہاز شامل تھے جو آبنائے ہرمز سے کامیابی سے گزرے، یہ جہاز تہران کی اجازت اور مکمل سیکیورٹی کوآرڈینیشن کے بعد اس اہم آبی گزرگاہ سے عبور ہوئے۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جو فروری کے آخر میں شروع ہونے والے ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد کی صورت حال کے تناظر میں ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ایرانی فوج نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھتے ہوئے بحری ٹریفک کو منظم کیا ہے اور بعض صورتوں میں غیر مجاز جہازوں کو روکا یا واپس بھیجا گیا ہے۔

آئی آر جی سی کے مطابق بعض ایسے جہاز جن کے نیویگیشن سسٹمز بند تھے اور وہ اجازت کے بغیر داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے، انہیں روک دیا گیا یا واپس موڑ دیا گیا۔

پاسداران انقلاب کی جانب سے بیان میں غیر ملکی جہازران کمپنیوں اور ٹینکرز کو خبردار کیا گیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے پیشگی اجازت حاصل کرنا ضروری ہے جب کہ بغیر اجازت متبادل راستے اختیار کرنے کو خلل ڈالنے کی کوشش تصور کیا جائے گا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی توانائی منڈیوں میں آبنائے ہرمز کی اہمیت کے باعث کسی بھی ممکنہ رکاوٹ کو حساس سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ عالمی تیل کی بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles