ایران کے بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے ناکام بنادیے: امریکی سینٹ کام کا دعویٰ

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے کویت کی جانب ایک بیلسٹک میزائل داغا، جسے کویتی فورسز نے کامیابی سے فضا میں تباہ کردیا۔ امریکی حکام نے اس کارروائی کو جنگ بندی کی ’سنگین خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے جب کہ آبنائے ہرمز کے اطراف ایران اور امریکا کے درمیان فوجی کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

سینٹ کام کے مطابق ایرانی میزائل امریکی وقت کے مطابق رات 10 بج کر 17 منٹ پر داغا گیا تاہم کویتی دفاعی نظام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اسے ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کردیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف میں آج صبح 5 خودکش ڈرونز بھی بھیجے، جو خطے میں موجود امریکی افواج اور تجارتی بحری آمدورفت کے لیے خطرہ تھے۔

امریکی فوج کے مطابق تمام ڈرونز کو کامیابی سے روک لیا گیا جب کہ بندر عباس میں موجود ایک ایرانی زمینی کنٹرول سائٹ سے چھٹے ڈرون کی لانچنگ بھی ناکام بنادی گئی۔

امریکی حکام کے مطابق امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایسے مقام کو نشانہ بنایا تھا جسے امریکی افواج اور تجارتی جہازوں کے لیے خطرہ تصور کیا جا رہا تھا۔ اس کارروائی کے ردعمل میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ایک امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، جسے امریکی حملوں کا مرکز قرار دیا گیا۔

دوسری جانب ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکا نے جنوبی ایران میں ایک فوجی تنصیب پر حملہ کیا ہے۔

آبنائے ہرمز کے اطراف بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے میں سیکیورٹی صورت حال مزید حساس ہوگئی ہے جب کہ ایران اور امریکا کے درمیان الزامات اور فوجی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

کویتی وزارت خارجہ کا بیان

دوسری جانب کویت کی وزارت خارجہ نے ایران پر میزائل اور ڈرون حملوں کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کارروائیوں کی شدید مذمت کی ہے۔ کویتی حکومت نے کہا ہے کہ یہ حملے ملک کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے خلاف کھلی جارحیت ہیں اور خطے میں جاری سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

جمعرات کو ایکس پر جاری بیان وزارت خارجہ کی جانب سے کہا گیا کہ ایران کی جانب سے کویت کی سرزمین کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانا خطرناک اشتعال انگیزی ہے، جس سے شہریوں کی جانوں اور اہم تنصیبات کو براہِ راست خطرہ لاحق ہوا۔

بیان کے مطابق یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب متعدد برادر اور دوست ممالک خطے میں کشیدگی کم کرنے اور صورت حال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے سفارتی کوششیں کر رہے ہیں۔ کویت نے کہا کہ اس قسم کی کارروائیاں نہ صرف امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں بلکہ علاقائی استحکام کے لیے بھی خطرہ ہیں۔

کویتی وزارت خارجہ نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری اور غیرمشروط طور پر ان ’مجرمانہ حملوں‘ کو بند کرے۔ بیان میں کہا گیا کہ ایران ان حملوں کی مکمل ذمہ داری قبول کرے کیوں کہ یہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 برائے 2026 کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔

وزارت نے واضح کیا کہ کویت اپنی سرزمین، سلامتی اور اہم تنصیبات کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 اور بین الاقوامی قوانین کے تحت کویت کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ’موافق معاہدے‘ کی بات کر چکے ہیں، تاہم خطے میں جنگ بندی کی صورتحال بدستور نازک بتائی جا رہی ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles