
چین میں ایک معروف گیمنگ کمپنی کے سابق اعلیٰ عہدے دار کو اپنے ارب پتی بزنس پارٹنر کو زہر دے کر قتل کرنے کے جرم میں سزائے موت دے دی گئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ژو یاؤ نامی شخص نے دسمبر 2020 میں شنگھائی میں قائم گیمنگ یوزو گیمز کمپنی کے بانی اور ارب پتی کاروباری شخصیت لن کیو کے کھانے میں زہر ملا دیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق دونوں کے درمیان اختلافات اس وقت شدت اختیار کرگئے تھے جب لنچی نے ژو یاؤ کو اہم کاروباری ذمہ داریوں سے ہٹا کر اختیارات دیگر افسران کے حوالے کردیے، حالانکہ ژو یاؤ نے کمپنی اور نیٹ فلکس کے درمیان ایک اہم معاہدہ کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔
39 سالہ لن کیو کرسمس کے روز مردہ پائے گئے تھے۔ ان کی موت کے بعد پولیس نے ژو یاؤ کو گرفتار کرلیا تھا جبکہ 2024 میں عدالت نے اسے قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی۔
یوزو گیمز کے پاس معروف چینی سائنس فکشن ناول “تھری باڈی پرابلم” کے فلمی اور ڈرامائی حقوق موجود تھے۔ ژو یاؤ کمپنی کے ذیلی ادارے “تھری باڈی یونیورس” کے سربراہ تھے، جو اسی منصوبے سے متعلق کاروباری امور دیکھتا تھا۔
رپورٹس کے مطابق ستمبر 2020 میں نیٹ فلکس نے اس ناول پر مبنی سیریز بنانے کے حقوق حاصل کیے تھے۔ لن قی کو اس پروجیکٹ کا ایگزیکٹو پروڈیوسر مقرر کیا گیا تھا جبکہ مشہور سیریز گیم آف تھرون کے تخلیق کار ڈیوڈ بینیف اور ڈی بی ویس بھی اس منصوبے کا حصہ تھے۔
لیو قی نے 2018 میں ژو یاؤ کو ’’تھری باڈی یونیورس‘‘ پروجیکٹ کا سربراہ مقرر کیا تھا، تاہم دو برس بعد اختیارات کی تبدیلی کے بعد دونوں کے تعلقات خراب ہوگئے۔
یوزو گیمز کمپنی نے 21 مئی کو ژو یاؤ کو دی گئی سزائے موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی لنچی کی موت پر گہرے دکھ اور صدمے میں ہے اور ان کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کرتی ہے۔
کمپنی کے مطابق تمام ملازمین عدالتی عمل کی غیر جانبداری پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں اور اس کا احترام کرتے ہیں۔
نیٹ فلکس کی سیریز 3 باڈی پرابلم 2024 میں ریلیز ہوئی تھی، جس میں سائنس دانوں کی ایک ٹیم کو دکھایا گیا ہے جو دنیا بھر میں ناکام ہوتے سائنسی تجربات اور انسانیت کو درپیش ممکنہ خلائی خطرے کی تحقیقات کرتی ہے۔