
پاکستان کے مختلف دیہاتوں میں ان دنوں ایک عجیب اداسی اور پریشانی کا ماحول ہے۔ یہاں کے 100 سے زائد ایسے محنت کش نوجوان اچانک اپنے گھروں کو لوٹ آئے ہیں جن کے پاس نہ تو ان کی نوکریاں بچی ہیں، نہ وہ اپنا سامان ساتھ لا سکے اور نہ ہی اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی نکال پائے ہیں جو انہوں نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں دن رات ایک کر کے جمع کی تھی۔
یہ لوگ ان ہزاروں پاکستانی شہریوں میں شامل ہیں جنہیں ایران جنگ کے دوران یو اے ای سے اچانک ملک بدر کر کے پاکستان واپس بھیج دیا گیا ہے۔ اس غیر متوقع اقدام نے پاکستانی برادری میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ نے بھی اس معاملے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے ایسے 103 پاکستانیوں کی امیگریشن دستاویزات، ویزا اسٹیٹس کے اسکرین شاٹس اور پروازوں کی تفصیلات کا جائزہ لیا ہے جنہیں وہاں سے نکالا گیا، اور ان میں سے 24 افراد کا ذاتی انٹرویو بھی کیا گیا ہے۔
انٹرویو دینے والے ہر شخص نے بتایا کہ فلائٹ میں بٹھانے سے پہلے انہیں اپنا ذاتی سامان اٹھانے یا بینکوں میں موجود اپنی بچت کی رقم نکالنے کی بالکل اجازت نہیں دی گئی اور انہیں درجنوں دیگر ہم وطنوں کے ساتھ جہاز میں بٹھا کر واپس بھیج دیا گیا۔
پاکستان کی سیاسی و مذہبی تنظیم ’مجلس وحدت المسلمین‘ کی جانب سے تیار کردہ ایک ڈیٹا بیس کے مطابق، 28 فروری کو جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے شروع کیے، اس کے بعد سے اب تک خلیجی ملک یو اے ای سے کم از کم 7 ہزار 500 پاکستانیوں کو نکالا جا چکا ہے۔
اس تنظیم کے ترجمان محسن عابدی نے رائٹرز کو صورتحال کی سنگینی بتاتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس موجود فہرست میں ساڑھے سات ہزار نام ہیں لیکن حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
پاکستانی کمیونٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران لوگوں کو ملک بدر کیے جانے کے واقعات میں بہت زیادہ تیزی آئی ہے، کیونکہ ایران نے جواب میں یو اے ای پر میزائل اور ڈرون حملے کیے جس سے پورے خلیج کے علاقے میں سخت تناؤ پھیل گیا۔
ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یو اے ای کی حکومت نے کس قانون یا معیار کے تحت ان پاکستانیوں کو نکالنے کے لیے چنا۔ رائٹرز کے مطابق، اس حوالے سے یو اے ای کی وزارتِ خارجہ سے جب سوالات پوچھے گئے تو انہوں نے کوئی بھی تبصرہ کرنے سے صاف انکار کر دیا۔
دوسری طرف پاکستان کی وزارتِ داخلہ نے رائٹرز کو دیے گئے ایک اپنے ایک تحریری بیان میں کہا ہے کہ یو اے ای نے کسی بھی شخص کو مسلک یا فرقے کی بنیاد پر نہیں نکالا بلکہ جن لوگوں کو بھی واپس بھیجا گیا ہے انہوں نے یو اے ای کے مقامی قوانین اور ضوابط کی خلاف ورزی کی تھی۔
پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے بھی تفصیلات دیے بغیر صرف اتنا کہا کہ اس سال ملک بدری کے اعداد و شمار معمول کے مطابق ہی ہیں۔
تاہم، حکومتِ پاکستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے معاملے کی حساسیت کے باعث اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز سے بات کرتے ہوئے ایک مختلف حقیقت بیان کی۔
رائٹرز کے مطابق، انہوں نے اعتراف کیا کہ اسلام آباد یو اے ای سے ہزاروں کی تعداد میں واپس بھیجے جانے والے پاکستانیوں کی آمد کے بعد صورتحال کا گہرائی سے جائزہ لے رہا ہے، لیکن پاکستانی حکومت نے سفارتی وجوہات کی بنا پر اس معاملے کو یو اے ای کے سامنے کھل کر نہیں اٹھایا۔
اس صورتحال پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ کے ڈپٹی مڈل ایسٹ ڈائریکٹر مائیکل پیج نے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات سے پاکستانی رہائشیوں کی بے دخلی کی رپورٹیں انتہائی تشویشناک ہیں اور ہماری تنظیم ان سنگین الزامات کی مکمل انویسٹی گیشن کر رہی ہے۔
واضح رہے کہ اوورسیز پاکستانیز ایسوسی ایشن کے مطابق تقریباً 18 لاکھ پاکستانی یو اے ای میں رہائش پذیر اور برسرِروزگار ہیں جو سالانہ 6 ارب ڈالر سے زائد کا زرِ مبادلہ پاکستان بھیجتے ہیں، جبکہ پاکستان خود بھی ایران تنازع کو کم کرنے کے لیے ایک ثالث کے طور پر کوششیں کر رہا ہے۔