روس کا ایٹمی صلاحیت کا حامل اوریشنگ میزائل کیا ہے اور مغرب اس سے خوفزدہ کیوں؟

روس کی جانب سے یوکرین پر حالیہ حملے میں استعمال ہونے والا ’اوریشنک‘ میزائل اس وقت دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، جس کے بارے میں دفاعی ماہرین اور عالمی رہنما مسلسل تبصرے کر رہے ہیں۔ اوریشنک، جس کے نام کا مطلب ہیزل ٹری یعنی ایک قسم کا درخت ہے، درمیانے فاصلے تک مار کرنے والا ایک انتہائی تیز رفتار ہائپر سونک بیلسٹک میزائل ہے، جسے روس نے اس سے پہلے یوکرین کے خلاف صرف ایک بار نومبر 2024 میں استعمال کیا تھا۔

دفاعی ماہرین کے مطابق اس میزائل کی سب سے خاص اور انوکھی بات یہ ہے کہ یہ بیک وقت کئی وار ہیڈز یعنی بم لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو فضا میں بلند ہونے کے بعد الگ الگ اہداف کو ایک ہی وقت میں نشانہ بنا سکتے ہیں۔

عام طور پر یہ ٹیکنالوجی بہت زیادہ دور تک مار کرنے والے بین البراعظمی میزائلوں میں ہوتی ہے، لیکن روس نے اسے اس درمیانے فاصلے کے میزائل میں شامل کیا ہے جو کہ روسی میزائل آر ایس 26 روبیز پر مبنی ہے۔

روس کے دیگر ہتھیاروں کی طرح یہ میزائل بھی روایتی دھماکہ خیز مواد کے ساتھ ساتھ ایٹمی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے، اگرچہ حالیہ حملے میں کسی ایٹمی مواد کے استعمال کے شواہد نہیں ملے۔

یوکرینی حکام کے مطابق جنوری میں ہونے والے ایک حملے کے دوران اس میزائل کی رفتار تقریباً 13 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی تھی، جو آواز کی رفتار سے کئی گنا زیادہ ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اس ہتھیار کی طاقت کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اوریشنک کو فضا میں روکنا بالکل ناممکن ہے اور اگر اس میں عام بارود بھی بھرا ہو، تب بھی اس کی تباہی کی صلاحیت کسی ایٹمی ہتھیار کے برابر ہوتی ہے۔ تاہم، مغربی ماہرین ان دعوؤں کو مبالغہ آرائی قرار دیتے ہیں۔

دسمبر 2024 میں ایک امریکی اہلکار نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم اس ہتھیار کو جنگ کا رخ بدلنے والا نہیں سمجھتے، یہ ابھی تجرباتی مراحل میں ہے اور روس کے پاس اس وقت ایسے چند ہی میزائل موجود ہیں۔

اس کے باوجود، روس نے 2024 سے اس کی بڑے پیمانے پر تیاری شروع کر دی ہے اور اپنے قریبی اتحادی بیلاروس کو بھی یہ نظام فراہم کیا ہے۔

حیرت انگیز طور پر حالیہ حملوں میں اس میزائل سے ہونے والی تباہی بہت محدود رہی ہے، جس کی وجہ یوکرین کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بتائی۔

یوکرینی عہدیدار نے برطانوی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنوری کے حملے میں روس نے اس میزائل کے اندر اصل دھماکہ خیز مواد کے بجائے صرف نقلی وار ہیڈز یعنی ڈمی بم استعمال کیے تھے، جس کی وجہ سے مغربی شہر لویو میں ایک سرکاری عمارت کے مٹی اور کنکریٹ کے ڈھانچے کو معمولی نقصان پہنچا اور زمین پر صرف گڑھے بنے۔

سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ روس کا مقصد بڑی تباہی پھیلانا نہیں بلکہ جنگ کے اس نازک موڑ پر مغرب کو ایک سخت پیغام اور وارننگ دینا تھا کہ اس کے پاس ایک ایسا تیز رفتار میزائل موجود ہے جو یوکرین یا نیٹو کے کسی بھی یورپی ملک کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

یوکرین کے یورپی اتحادیوں کا مؤقف ہے کہ ماسکو اس طرح کے ہتھکنڈوں سے انہیں ڈرانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ وہ یوکرین کی مدد سے پیچھے ہٹ جائیں۔ روس خاص طور پر برطانیہ اور فرانس کے ان حالیہ منصوبوں پر شدید غصے میں ہے جن کے تحت جنگ بندی کی صورت میں یوکرین کی حفاظت کے لیے یورپی افواج بھیجنے کی بات کی جا رہی ہے، اور روس نے واضح کیا ہے کہ ایسی صورت میں یورپی فوجی ان کا جائز نشانہ ہوں گے۔

کچھ سیاسی ماہرین کے مطابق روس اس سال ملنے والی کچھ سفارتی ناکامیوں، جیسے وینزویلا میں اپنے اتحادی صدر نکولس مدورو کی حکومت کے خاتمے اور شمالی بحرِ اوقیانوس میں امریکہ کی جانب سے روسی تیل کے جہاز کو قبضے میں لیے جانے کے بعد، دنیا پر اپنی فوجی دھاک بٹھانے کے لیے بھی اس میزائل کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ روس کے پاس ان میزائلوں کا اسٹاک محدود ہے، اس لیے وہ انہیں بہت سوچ سمجھ کر استعمال کرے گا اور اگر اسے لگا کہ مغرب تک اس کا پیغام پہنچ چکا ہے، تو وہ مزید ایسے لانچوں سے گریز کرے گا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles