
حج 2026 کے مناسک کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے اور پاکستان سمیت دنیا بھر سے آئے تقریباً اٹھارہ لاکھ عازمینِ حج مکہ مکرمہ سے منیٰ کی طرف روانہ ہورہے ہیں۔ عازمین آج منیٰ میں نمازِ ظہر، عصر، مغرب اور عشاء ادا کریں گے ۔ آج حج کا پہلا دن ہے جسے ”یوم الترویہ“ کہا جاتا ہے، جہاں حاجی لبیک کی صدائیں بلند کرتے ہوئے خیموں میں قیام کر رہے ہیں۔
کل 9 ذی الحجہ کو نماز فجر کے بعد میدان عرفات روانہ ہوں گے جہاں حج کا سب سے اہم رکن وقوفِ عرفہ ادا کیا جائے گا۔
سعودی حکومت کی جانب سے حج انتظامات کو مؤثر اور محفوظ بنانے کے لیے وسیع پیمانے پر اقدامات کیے گئے ہیں۔ سیکیورٹی، بجلی، پانی، طبی سہولیات اور گرمی سے بچاؤ کے لیے خصوصی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
منیٰ، عرفات اور دیگر مقدس مقامات پر جدید کولنگ سسٹم، پانی کی پھوار دینے والے پنکھے، شیڈ اسٹرکچر اور سائبان نصب کیے گئے ہیں تاکہ شدید گرمی میں حجاج کو سہولت فراہم کی جا سکے۔
میدان عرفات اور مسجد نمرہ کے اطراف ماحول کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے شجر کاری کے منصوبے بھی مکمل کیے گئے ہیں جبکہ پیدل چلنے والے حجاج کی آسانی کے لیے سہولیات کے ساتھ راستے تیار کیے گئے ہیں۔ سعودی حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد حجاج کو محفوظ، آرام دہ اور بہتر ماحول فراہم کرنا ہے۔
دوسری جانب پاکستانی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے پاکستانی حجاج کے کیمپوں کا دورہ کیا اور انتظامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے سعودی وزیر حج ڈاکٹر توفیق العربیہ سے بھی ملاقات کی اور بہترین انتظامات پر سعودی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔
حج گروپس کی انتظامیہ نے عازمین کو یوم الترویہ اور دیگر مناسک کے حوالے سے ضروری ہدایات بھی فراہم کی ہیں۔ مختلف راستوں پر سیکیورٹی اہلکار تعینات ہیں جبکہ ہلالِ احمر اور فلاحی تنظیموں کے رضاکار بھی حجاج کی مدد میں مصروف ہیں۔
وزارتِ صحت کی جانب سے مختلف زبانوں میں آگاہی پمفلٹس تقسیم کیے جا رہے ہیں اور حجاج کو شدید گرمی سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ عازمین کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ کھلی دھوپ میں زیادہ دیر نہ رہیں، زیادہ پیدل سفر سے گریز کریں، چھتری کا استعمال کریں۔
ادھر مکہ مکرمہ کے مقامی شہری بھی حجاج کی خدمت میں پیش پیش ہیں اور منیٰ جانے والے راستوں پر عازمین میں پانی کی بوتلیں تقسیم کر رہے ہیں، جس سے حج کے ماحول میں بھائی چارے اور خدمت کے جذبات نمایاں دکھائی دے رہے ہیں۔