
ایران نے امریکا سے جنگ بندی، منجمد اثاثوں کی واپسی اور بحری تحفظ کی ضمانت کا مطالبہ کر دیا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ تہران سنجیدگی اور نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اپنائے ہوئے ہے اور مذاکرات سے متعلق تفصیلات مجاز حکام کی جانب سے فراہم کی جائیں گی۔
ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق مذاکرات کا بنیادی محور خطے میں جاری کشیدگی اور لبنان سمیت مختلف تنازعات کے خاتمے پر مرکوز ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جوہری معاملات، بالخصوص افزودہ یورینیم سے متعلق گردش کرنے والی اطلاعات محض قیاس آرائیاں ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
دوسری جانب ایک سینیئر ایرانی عہدیدار نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان تاحال کسی حتمی معاہدے پر اتفاق نہیں ہو سکا ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان اختلافات میں کچھ حد تک کمی ضرور آئی ہے۔
عہدیدار کے مطابق یورینیم افزودگی اور آبنائے ہرمز پر تہران کے کنٹرول سے متعلق معاملات اب بھی اہم رکاوٹیں تصور کیے جا رہے ہیں۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ مذاکراتی عمل جاری ہے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو ترجیح دی جا رہی ہے، تاہم حساس معاملات پر حتمی پیش رفت ابھی باقی ہے۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران سے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے، وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہییں، ایران سے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو قبضے میں لے لیں گے۔
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بھی کہنا تھا کہ اگر تہران معاہدے پر آمادہ نہ ہوا تو امریکا کی جانب سے تباہ کن ایکشن لیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یورینیم کو ایران سے لے کر تباہ کر دیا جائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز پر امریکا کا مکمل کنٹرول ہے اور امریکا چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز بغیر کسی پابندی اور فیس کے کھلی رہے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ہماری اجازت کے بغیر نہ کوئی جہاز ایران جا رہا ہے اور نہ وہاں سے آ رہا ہے۔