
امریکا نے ایران کو 25 ارب ڈالر کے اثاثوں کی واپسی اور 3.67 فی صد یورینیم افزودگی کی پیش کش کر دی ہے۔
ایرانی سیاسی مبصر علی گولہا کی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کو ایک جامع پیکیج پیش کیا ہے جس میں متعدد اہم تجاویز شامل ہیں۔
ایکس پر بیان میں علی گولہاکی نے لکھا امریکا چاہتا ہے جنگ کے خاتمے، آبنائے ہرمز کی بحالی، پابندیوں میں نرمی اور جوہری اقدامات سے متعلق تمام نکات پر ایک ساتھ اتفاق کیا جائے، جب کہ ایران کا مطالبہ ہے کہ ان اقدامات پر تیس دن میں عمل درآمد اور تصدیق کے بعد ہی جوہری مذاکرات آگے بڑھائے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ اس پیکیج کے تحت ایران کے منجمد اثاثوں کا 25 فیصد، یعنی تقریباً 25 ارب ڈالر جاری کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے، جبکہ ایران کو 30 روز کیلئے تیل فروخت کرنے میں خصوصی رعایت دینے کی بات بھی شامل ہے۔
ایرانی تجزیہ کار کے مطابق مجوزہ مذاکرات کے مرکزی نکات میں ایران سے 400 کلوگرام یورینیم کسی تیسرے ملک منتقل کرنا، ایران کو 3.67 فیصد تک یورینیم افزودگی کا حق دینا اور تہران ری ایکٹر کے علاوہ دیگر جوہری تنصیبات بند کرنا شامل ہے۔ ان کے بقول تہران ری ایکٹر کو صرف طبی مقاصد کیلئے فعال رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
علی گولہا نے مزید کہا کہ ایران نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے تمام مراحل پر پہلے 30 روز تک عملی عملدرآمد اور تصدیق ہونی چاہیے تاکہ ایران کو تیل فروخت کرنے کا موقع مل سکے اور وہ جوہری مذاکرات میں شامل ہونے پر آمادہ ہو۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگرچہ 3.67 فیصد یورینیم افزودگی کی تجویز سامنے آئی ہے، تاہم امکان ہے کہ امریکا حتمی مرحلے میں اس شرط کو تسلیم نہ کرے۔