سمندری چوکیاں، سفارتی سودے بازی اور بھاری فیسیں: آبنائے ہرمز پر ایران کا راج

آبنائے ہرمز ہرمز، جہاں سے دنیا بھر کی تیل کی سپلائی کا پانچواں حصہ گزرتا ہے، اب مکمل طور پر ایران کے کنٹرول میں آ چکی ہے۔ اس صورتحال نے عالمی معیشت کو شدید بحران میں مبتلا کر دیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق، ایران نے اس اہم سمندری راستے سے بحری جہازوں کو گزارنے کے لیے ایک انتہائی پیچیدہ اور کثیر سطحی نظام قائم کر لیا ہے۔

اس نئے نظام کے تحت مختلف ممالک کی حکومتوں کے درمیان براہِ راست معاہدے، ایرانی حکام کی طرف سے جہازوں کی سخت ترین جانچ پڑتال اور بعض اوقات محفوظ راستے کے بدلے بھاری فیسیں بھی وصول کی جا رہی ہیں۔

اس صورتحال کی ایک بڑی مثال عراقی خام تیل سے لدا ویتنام جانے والا 330 میٹر لمبا بحری جہاز ’آگیوس فانوریوس ون‘ ہے، جو اپریل کے آخر سے دبئی کے ساحل پر پھنسا ہوا تھا۔

 عراقی خام تیل سے لدا ویتنام جانے والا 330 میٹر لمبا بحری جہاز ’آگیوس فانوریوس ون‘
عراقی خام تیل سے لدا ویتنام جانے والا 330 میٹر لمبا بحری جہاز ’آگیوس فانوریوس ون‘

یہ جہاز دس مئی کو عراقی وزیرِ اعظم کی نگرانی میں ایران کے ساتھ ہونے والے ایک براہِ راست معاہدے کے بعد آگے بڑھنے میں کامیاب ہوا۔

سفر کے دوران اس جہاز کو ابو موسیٰ اور لَارک جیسے جزیروں پر قائم ایرانی فوجی چوکیوں کے پاس سے گزرنا پڑا، جہاں مسلح اہلکار تعینات تھے۔

آبنائے ہرمز کے دھانے پر پہنچنے پر پاسدارانِ انقلاب یعنی آئی آر جی سی کی تیز رفتار کشتیوں نے شک کی بنیاد پر جہاز کو روک لیا اور تلاشی لی۔

چند گھنٹوں کی تفتیش اور الجھن کے بعد جہاز کو آگے جانے کی اجازت مل گئی، جس سے پانچ گھنٹے کا سفر دو دن کی اذیت میں بدل گیا۔

ایسٹرن میڈیٹیرینین شپنگ کے آپریشنز مینیجر کونسٹنٹینوس ساکیلاریڈس نے رائٹرز کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے لکھا کہ ہمارے پاس یہ یقین کرنے کی وجوہات موجود ہیں کہ ایران نے عراق اور ویتنام کے دباؤ کے بعد اس جہاز کو گزرنے کی اجازت دی، اور اس کے لیے کوئی ادائیگی نہیں کی گئی۔

دوسری طرف، دو یورپی جہاز رانی کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ جن جہازوں کو حکومتی سطح کے معاہدوں کا تحفظ حاصل نہیں ہے، وہ آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کے لیے ایرانی حکام کو ایک لاکھ پچاس ہزار ڈالر (قریباً چار کروڑ پاکستانی روپے) سے زائد کی رقم ادا کر رہے ہیں۔

دو اعلیٰ ایرانی حکام نے بھی تصدیق کی ہے کہ جہازوں سے سیکیورٹی اور نیویگیشن فیس لی جا رہی ہے جو مالِ تجارت کے حساب سے بدلتی ہے، تاہم تمام ممالک پر یہ فیس لاگو نہیں ہوتی۔

اسرائیل کے انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سیکیورٹی اسٹڈیز کے سینئر محقق اور سابق انٹیلی جنس افسر ڈینی سیٹرینووچ نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اب یہ آبنائے صرف ایرانی حکومت کی مرضی سے ہی کھلے گی یا بند ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ کچھ جہاز سیاسی اتحاد کی وجہ سے گزر جائیں گے، دوسروں کو ادائیگی کرنی پڑے گی، اور کچھ کو واپس بھیج دیا جائے گا۔ اب یہی نیا معمول ہے۔

اس حوالے سے چین کے وزیرِ خارجہ نے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے انتظامات بین الاقوامی قانون کے مطابق ہونے چاہئیں اور ساحلی ریاستوں کے سیکیورٹی خدشات کے ساتھ ساتھ عالمی برادری کے جائز مطالبات کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔

امریکی پابندیوں کے قوانین کے تحت کسی بھی امریکی شہری یا غیر ملکی کمپنی کے لیے ایران کو ایسی ادائیگیاں کرنا منع ہے، اور ایسا کرنے پر ان کی انشورنس بھی ختم ہو سکتی ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ نے واضح کیا ہے کہ وہ غیر قانونی ایرانی تجارت کی حمایت کرنے والی کسی بھی غیر ملکی کمپنی کے خلاف کارروائی کے لیے تیار ہے۔

امریکی ناکہ بندی کی وجہ سے خلیج میں اس وقت لگ بھگ 15 سو جہاز اور 22 ہزار سے زائد ملاح پھنسے ہوئے ہیں، اور جہاں جنگ سے پہلے روزانہ 140 کے قریب جہاز گزرتے تھے، وہاں اب گنتی کے چند جہاز ہی گزر پا رہے ہیں۔ اس صورتحال نے عالمی توانائی کے نظام کو تاریخ کے بدترین بحران سے دوچار کر دیا ہے۔

ایران کا نیا طریقہ کار روس اور چین جیسے اتحادیوں کو اولیت دیتا ہے، جس کے بعد پاکستان اور بھارت جیسے قریبی تعلقات رکھنے والے ممالک کا نمبر آتا ہے۔

بھارتی جہاز رانی کی وزارت کے ایک اہلکار نے بتایا کہ نئی دہلی تہران میں اپنے سفارت خانے کے ذریعے ایرانی بحریہ اور آئی آر جی سی سے رابطہ کرتی ہے۔ جب تمام دستاویزات کی تصدیق ہو جاتی ہے، تو جہاز کے کپتان کو ایک مخصوص راستہ دیا جاتا ہے اور اسے سختی سے ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اپنا لوکیشن سسٹم بند رکھے اور مقررہ راستے سے بالکل نہ ہٹے۔

انہوں نے بتایا کہ اب تک بھارت کے 13 جہاز اس طریقے سے نکل چکے ہیں جبکہ 13 اب بھی وہاں پھنسے ہوئے ہیں۔

خلیج سے گزرنے والے ایک بھارتی ملاح نے اپنے خوفناک تجربے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں سمندری بارودی سرنگوں کے خوف سے بہت احتیاط سے چلنے کو کہا گیا، یہ ایک ہولناک منظر تھا اور میں خواب میں بھی دوبارہ جنگ کے دوران سمندر میں جانے کا نہیں سوچ سکتا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles