
اسرائیلی پارلیمنٹ نے خود کو تحلیل کرنے کے قانون کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد اسرائیل میں قبل ازوقت عام انتخابات کرائے جانے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔
رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ممکنہ انتخابات میں وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کو شکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
نیتن یاہو اس وقت غزہ جنگ، ایران کے ساتھ کشیدگی اور داخلی سیاسی دباؤ سمیت متعدد چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ ان پر کرپشن کے الزامات کے تحت طویل عدالتی مقدمات بھی جاری ہیں۔
عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق بدھ کے روز بل کی ابتدائی منظوری کے دوران 120 میں سے 110 ارکان نے حمایت میں ووٹ دیا جبکہ کسی رکن نے مخالفت نہیں کی، باقی ارکان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
بل اب کمیٹی کو بھیجا جائے گا جس کے بعد اسے مزید تین پارلیمانی مراحل سے گزرنا ہوگا۔ اگر بل کو حتمی منظوری مل گئی، جس میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں، تو 90 دن کے اندر انتخابات کرانا ہوں گے۔ اس وقت انتخابات 27 اکتوبر سے قبل قانون ساز اجلاس کے اختتام سے پہلے متوقع ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کو شدت پسند مذہبی جماعتوں کی جانب سے بڑھتے دباؤ کا سامنا ہے جبکہ ان کی دائیں بازو کی اتحادی حکومت ٹوٹ پھوٹ کے خطرے سے دوچار دکھائی دے رہی ہے۔
شدت پسند مذہبی جماعتوں کا الزام ہے کہ نیتن یاہو نوجوان طلبہ کو لازمی فوجی سروس سے استثنیٰ دینے سے متعلق اپنا وعدہ پورا کرنے میں ناکام رہے۔ سیاسی بحران کے دوران اپوزیشن جماعتوں نے بھی پارلیمنٹ تحلیل کرنے کے لیے اپنے بل پیش کرنے کا اعلان کیا تھا۔
بدھ کو حکومتی اتحاد کے چیئرمین اوفیر کاٹز نے کہا کہ یہ اتحاد اپنی مدت پوری کرچکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ واحد اپوزیشن تھی جس نے اتحاد کو مزید مضبوط کیا، اس دور میں ہم نے 9 بجٹ اور 520 قوانین منظور کیے۔
بل اب کمیٹی میں جائے گا جہاں انتخابات کی تاریخ پر اتفاق کیا جائے گا، اس کے بعد اسے حتمی منظوری کے لیے دوبارہ کنیسٹ میں پیش کیا جائے گا۔
یہ ووٹنگ ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسرائیل کے طویل ترین عرصے تک وزیراعظم رہنے والے نیتن یاہو اپنی سیاسی زندگی کے اہم مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ ان کی قیادت میں اسرائیل کی تاریخ کی سب سے دائیں بازو کی حکومت قائم ہے جبکہ اسرائیل غزہ، لبنان اور ایران سمیت کئی محاذوں پر جنگ میں مصروف ہے۔
اسرائیل میں کئی شہری نیتن یاہو کو 7 اکتوبر 2023 کو جنوبی اسرائیل پر حماس کے حملوں سے قبل سیکیورٹی ناکامی کا ذمہ دار بھی قرار دیتے ہیں، جس کے بعد اسرائیل نے غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف جنگ شروع کی۔
بائیں بازو کی جماعت “دی ڈیموکریٹس” کے سربراہ یائر گولان نے ایکس پر لکھا کہ یہ 7 اکتوبر کے انتخابات ہیں، ایسے انتخابات جن میں اسرائیلی عوام غفلت کی اس حکومت کو گھر بھیج دیں گے جس نے ملک کی تاریخ کی سب سے بڑی تباہی مسلط کی۔
رپورٹس کے مطابق 76 سالہ نیتن یاہو اعتراف جرم کی صورت میں سیاست سے دستبردار بھی ہوسکتے ہیں۔