
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ بیجنگ کے فوری بعد اب چین اور روس کے سربراہانِ مملکت بدھ کے روز چین کے دارالحکومت میں ایک انتہائی اہم سربراہی اجلاس کے لیے ملاقات کر رہے ہیں۔ اس اہم ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان باہمی اور بین الاقوامی معاملات پر تفصیلی گفتگو ہوگی، جس کا اختتام دو پرانے دوستوں کے درمیان چائے کی میز پر ایک غیر رسمی اور نجی ملاقات پر ہوگا۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق امریکی صدر کے دورے کے فوراً بعد ہونے والی اس ملاقات کے ظاہری انداز اور نتائج کا دنیا بھر میں گہرائی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور اس کا موازنہ ٹرمپ کے دورے سے کیا جا رہا ہے۔
چینی صدر شی جن پنگ اپنے مہمان رہنماؤں کی چائے پر تواضع کرنے کے لیے مشہور ہیں، لیکن اس ملاقات کا ماحول اور انداز یہ ظاہر کرتا ہے کہ چینی صدر اپنے مہمان کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔
اس سے قبل مئی 2024 میں جب شی جن پنگ نے پیوٹن کی میزبانی کی تھی، تو دونوں رہنماؤں نے ٹائیاں اتار کر شاہی باغ ژونگ نان ہائی میں کھلی ہوا میں چائے پر گفتگو کی تھی، جبکہ اس کے برعکس گزشتہ ہفتے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ چائے اور سیر کا ماحول زیادہ نپا تلا اور باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت دکھائی دے رہا تھا۔
آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی کے شعبہ پیسیفک افیئرز کے سینئر فیلو گریم اسمتھ نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بیجنگ اس پورے منظرنامے سے بہت لطف اندوز ہو رہا ہے۔ وہ عالمی توجہ کا مرکز بننے کو پسند کر رہے ہیں اور وہ اپنے ملک کے عوام کو یہ دکھانے کے لیے اس کا بھرپور فائدہ اٹھائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کچھ طریقوں سے شی جن پنگ کو ان دونوں عالمی رہنماؤں کے جذباتی مزاج کا فائدہ مل رہا ہے، جہاں ایک طرف ٹرمپ کو شان و شوکت پسند ہے تو دوسری طرف پیوٹن طویل عرصے سے شی جن پنگ کے ساتھ گہری دوستی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
دنیا کے دو ایسے بڑے ممالک کے رہنماؤں کے یکے بعد دیگرے بیجنگ کے دورے، جو سیاسی، فوجی اور معاشی طور پر ایک دوسرے کے سخت مخالف ہیں، چینی سرکاری میڈیا کی جانب سے ایک بدلتی ہوئی دنیا میں چین کے بڑھتے ہوئے عالمی وقار کے ثبوت کے طور پر پیش کیے جا رہے ہیں۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کا منگل کی شام بیجنگ پہنچنے پر چین کے وزیرِ خارجہ وانگ ای نے استقبال کیا، جہاں ہوائی اڈے پر گارڈ آف آنر پیش کیا گیا اور چینی نوجوانوں نے دونوں ممالک کے جھنڈے لہرا کر ان کا خیرمقدم کیا۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن، جو شی جن پنگ کو اپنا پیارا دوست کہتے ہیں اور خود چینی صدر کی طرف سے بھی جنہیں پرانا دوست قرار دیا گیا ہے، ایک ایسے وقت میں چین پہنچے ہیں جب دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت میں گزشتہ سال کی سستی کے بعد دوبارہ تیزی آ رہی ہے۔
رواں سال کے پہلے چار مہینوں میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت کی مالیت میں سنہ 2025 کے اسی عرصے کے مقابلے میں 16.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ سال 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت 240 ارب ڈالر رہی تھی، جو 2024 کے ریکارڈ کے مقابلے میں 6.5 فیصد کم تھی اور یہ گزشتہ پانچ سالوں میں پہلی گراوٹ تھی۔
صدر پیوٹن اس تجارتی کمی کو دور کرنے کی ضرورت کو تسلیم کر چکے ہیں، کیونکہ یوکرین جنگ کی وجہ سے مغربی پابندیوں کا سامنا کرنے والے روس کے لیے چین ایک اہم معاشی لائف لائن کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے ساتھ اس دورے میں نائب وزرائے اعظم، وزراء اور بڑے سرکاری اداروں اور بینکوں کے سربراہان پر مشتمل ایک بڑا وفد بھی شامل ہے۔
کریملن نے صدر پیوٹن کے اس دورے سے بڑی توقعات وابستہ کر رکھی ہیں، جس میں باضابطہ مذاکرات کے علاوہ معاہدوں پر دستخط کی تقریب اور ایک ضیافت بھی شامل ہے، جس کے بعد چائے کی میز پر دونوں رہنما غیر رسمی ماحول میں اہم بین الاقوامی امور پر بات چیت کریں گے۔
کریملن کے مطابق اس دورے کے دوران لگ بھگ 40 دستاویزات پر دستخط ہونے کی امید ہے اور ان کی مضبوط ہوتی شراکت داری پر ایک 47 صفحات کا مشترکہ بیان بھی جاری کیا جائے گا۔
ایک روسی سرکاری معاون نے رائٹرز کو بتایا کہ پیوٹن اور شی جن پنگ ایک کثیر القطبی عالمی نظام اور بین الاقوامی تعلقات کی ایک نئی قسم قائم کرنے کے بارے میں ایک مشترکہ اعلامیہ بھی اپنائیں گے۔
اس کے علاوہ، انڈسٹری کے ماہرین کا کہنا ہے کہ روس کو شمالی چین سے جوڑنے والی پاور آف سائبیریا ٹو گیس پائپ لائن کے مذاکرات بھی ایجنڈے کا حصہ ہونے کا امکان ہے۔ ایران کے تنازعع کی وجہ سے توانائی کی سپلائی میں پیدا ہونے والی کمی روس کے اس موقف کو مضبوط کر سکتی ہے کہ یہ پائپ لائن چین کے لیے گیس کا ایک طویل مدتی اور محفوظ ذریعہ ہے، تاہم بیجنگ اپنی حکمت عملی کے تحت توانائی حاصل کرنے کے ذرائع کو کسی ایک ملک تک محدود نہیں رکھنا چاہے گا۔