
Iran's open warning: UAE should not be part of Israel's conspiracies
ایران نے متحدہ عرب امارات کو اسرائیل کے ساتھ بڑھتے تعلقات پر سخت خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابوظہبی اسرائیل کی سازشوں اور منصوبوں کا حصہ بننے سے گریز کرے۔ ایرانی حکام کے تازہ بیانات کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں نئی سفارتی کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے اسکائی نیوز رپورٹس اور ایرانی خبر ایجنسی آئی ایس این اے کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر کے ملٹری سیکریٹری اور سابق پاسدارانِ انقلاب کمانڈر محسن رضائی نے متحدہ عرب امارات کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر سخت تنبیہ کی ہے۔
محسن رضائی نے کہا کہ تہران کو متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے روابط سے مکمل آگاہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے اب تک امارات کے ساتھ دوستی کا دروازہ بند نہیں کیا، تاہم ’’ایران کے صبر کی بھی ایک حد ہے۔‘‘
انہوں نے خبردار کیا کہ متحدہ عرب امارات کو اسرائیل کی پالیسیوں، سازشوں اور منصوبوں میں الجھنے سے بچنا چاہیے کیونکہ اس سے پورے خطے میں عدم استحکام پیدا ہوسکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف حالیہ کشیدگی اور جنگی صورتحال کے دوران متحدہ عرب امارات بھی ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کی زد میں آیا تھا۔ بعض اطلاعات میں دعویٰ کیا گیا کہ یو اے ای نے ممکنہ طور پر ایران مخالف کارروائیوں میں معاون کردار ادا کیا۔
اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی متحدہ عرب امارات پر تنقید کرچکے ہیں۔ برکس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ایران پر حملوں کے دوران یو اے ای نے نہ صرف خاموشی اختیار کی بلکہ ایران مخالف پالیسیوں پر بھی نظرثانی نہیں کی۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ “یکجہتی کے احترام میں ہم نے متحدہ عرب امارات کا نام نہیں لیا، لیکن ایران کو توقع تھی کہ پڑوسی ممالک کم از کم حملوں کی مذمت ضرور کریں گے۔”
دوسری جانب اسرائیلی میڈیا میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ ایرانی جنگ کے دوران بنیامین نیتن یاہو نے خفیہ طور پر متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا اور اماراتی قیادت سے ملاقاتیں کیں، تاہم یو اے ای حکام نے ان خبروں کی تردید کردی تھی۔
حالیہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب متحدہ عرب امارات کے براقہ نیوکلیئر پاور پلانٹ پر ڈرون حملے کی اطلاعات بھی سامنے آچکی ہیں۔ یو اے ای حکام کے مطابق ڈرون مغربی سرحد کی جانب سے آیا تھا، تاہم کسی ملک یا گروہ کو ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا۔
علاقائی ماہرین کے مطابق ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بڑھتی لفظی جنگ خلیجی خطے میں سفارتی تناؤ کو مزید بڑھا سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان شدید کشیدگی کا سامنا کر رہا ہے۔