کیوبا نے بھی امریکی حملے کی تیاری کرلی، عوام میں خوف

امریکا اور کیوبا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث جزیرہ نما ملک میں بے چینی بڑھ گئی ہے، جبکہ سی آئی اے چیف کی حالیہ ہوانا آمد کے بعد ممکنہ امریکی کارروائیوں سے متعلق خدشات بھی شدت اختیار کر گئے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہوانا میں موجود ایک عمارت کی منتظمہ نے سی این این کے دفتر سے رابطہ کرکے پوچھا کہ اگر ”امریکی حملہ“ ہوجائے تو کیا عملہ دفتر آئے گا یا نہیں۔ بتایا گیا کہ ریاستی حکام نے تمام سرکاری عمارتوں کو ممکنہ ہنگامی صورتحال کیلئے منصوبہ بندی کی ہدایات جاری کی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکی دباؤ اور تیل کی پابندیوں کے باعث کیوبا پہلے ہی شدید معاشی بحران کا شکار ہے۔ بجلی کی طویل بندش، ایندھن کی قلت اور بنیادی اشیائے ضروریہ کی کمی معمول بن چکی ہے۔ ہوانا میں کئی عمارتوں میں جنریٹر چلانے کیلئے بھی ایندھن دستیاب نہیں جبکہ روزمرہ استعمال کی اشیا تک ناپید ہوچکی ہیں۔

کیوبن عوام کئی دہائیوں سے امریکی فوجی کارروائی کے خدشات کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ مقامی سطح پر ”جب امریکی آئیں گے“ جیسا جملہ طنزیہ انداز میں اس امید کیلئے استعمال کیا جاتا ہے کہ شاید کسی دن پرانے مسائل ختم ہوجائیں گے۔ تاہم حالیہ حالات میں یہ خدشات ایک بار پھر حقیقی محسوس ہونے لگے ہیں۔

کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب سی آئی اے کے سربراہ جان ریٹکلف نے حالیہ دنوں میں ہوانا کا دورہ کیا۔ امریکی طیارے پر واضح طور پر ”ریاستہائے متحدہ امریکا“ درج تھا، جس نے کیوبا میں شدید ردعمل پیدا کیا۔

کیوبا میں سی آئی اے کو اب بھی 1960 کی دہائی میں فیڈل کاسترو کے خلاف مبینہ خفیہ سازشوں اور قتل کی کوششوں کی وجہ سے انتہائی منفی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ ملک میں ایسے عجائب گھر بھی موجود ہیں جہاں امریکی خفیہ ایجنسی کی کارروائیوں کو نمایاں کیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق جان ریٹکلف نے کیوبن حکام سے ملاقات میں امریکی صدر کی جانب سے یہ پیغام دیا کہ واشنگٹن اقتصادی اور سکیورٹی معاملات پر سنجیدہ بات چیت کیلئے تیار ہے، تاہم اس کیلئے کیوبا کو بنیادی تبدیلیاں کرنا ہوں گی۔

امریکی پابندیوں اور توانائی بحران کے باعث کیوبا میں حالات مسلسل خراب ہو رہے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان سرد جنگ کے دور کی کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles