
لاہور میں منشیات کے مبینہ بڑے نیٹ ورک سے جڑی کوکین کوئین انمول پنکی کی رہائش گاہ سے متعلق اہم انکشافات سامنے آگئے، جہاں تحقیقاتی اداروں نے شواہد اکٹھے کرتے ہوئے تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کردیا ہے۔
ذرائع کے مطابق کراچی میں گرفتار ملزمہ لاہور کے علاقے نواب ٹاؤن کی ایک نجی سوسائٹی میں واقع پانچ مرلے کے کرایے کے گھر میں رہائش پذیر تھی، جسے اب تحقیقات میں اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔
تحقیقاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ رہائش گاہ سے ملزمہ کے مبینہ منشیات نیٹ ورک، رابطوں اور سرگرمیوں سے متعلق شواہد اور ریکارڈ حاصل کیا جا رہا ہے۔
اہل علاقہ کے مطابق انمول پنکی تقریباً آٹھ ماہ سے اس گھر میں مقیم تھی جبکہ اس کے پاس بیس سے چوبیس سال عمر کے نوجوان لڑکوں کی آمدورفت معمول بنی رہتی تھی۔
مقامی افراد کے مطابق ملزمہ کے ساتھ ایک خاتون اور چار سے پانچ سال کا ایک بچہ بھی رہتا تھا، جبکہ گھر کے باہر مہنگی گاڑیوں کی آمد و رفت نے بھی علاقے کے لوگوں کی توجہ حاصل کر رکھی تھی۔
ذرائع کے مطابق پنکی پانچ مرلے کے گھر کی دوسری منزل پر رہتی تھی، جبکہ تیسری منزل پر چند طالبات اور گراؤنڈ فلور پر ایک فیملی رہائش پذیر تھی۔
تحقیقات کے مطابق یہ گھر گیارہ ماہ کے لیے پینتالیس ہزار روپے ماہانہ کرایے پر حاصل کیا گیا تھا جبکہ نوے ہزار روپے ایڈوانس بھی ادا کیے گئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مکان طاہر نامی شخص کے نام پر لیا گیا تھا۔ قریبی علاقوں میں رہائش پذیر طلبہ نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ کراچی میں گرفتار خاتون اسی گھر میں مقیم تھی۔
رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انمول پنکی کا لوگوں سے میل جول انتہائی محدود تھا اور وہ اکثر سلیپنگ سوٹ میں گھر سے باہر نکلتی دکھائی دیتی تھی۔
اہل علاقہ کے مطابق کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ مبینہ طور پر منشیات کے اتنے بڑے نیٹ ورک سے منسلک ہوسکتی ہے۔
اہم بات یہ بھی سامنے آئی ہے کہ جس علاقے میں ملزمہ رہائش پذیر تھی وہاں نجی یونیورسٹیوں، کالجز اور طلبہ کے ہاسٹلز کی بڑی تعداد موجود ہے، جس کے باعث تحقیقاتی ادارے مختلف پہلوؤں سے معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں۔
دوسری جانب بعض مقامی افراد کا کہنا ہے کہ پنکی علاقے میں سخاوت اور مالی مدد کے حوالے سے بھی جانی جاتی تھی، جس کی وجہ سے کسی کو اس کی سرگرمیوں پر شبہ نہیں ہوا۔