
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی اور نائجیریا کی افواج نے مشترکہ کارروائی میں داعش کے ایک اہم رہنما ابو بلال المنوکی کو ہلاک کردیا ہے، جو مبینہ طور پر تنظیم کا عالمی سطح پر دوسرا بڑا کمانڈر تھا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان میں کہا کہ ان کی ہدایت پر امریکی افواج اور نائجیریا کی مسلح افواج نے ایک نہایت پیچیدہ اور خفیہ آپریشن کے دوران داعش کے اہم رہنما ابو بلال المنوکی کو ہلاک کیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ ابو بلال المنوکی کو یقین تھا کہ وہ افریقا میں چھپ کر محفوظ رہے گا، لیکن امریکی ادارے اس کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے تھے۔
امریکی صدر کے مطابق ابو بلال المنوکی داعش کا عالمی سطح پر دوسرا اہم ترین رہنما تھا اور اس کی ہلاکت سے تنظیم کے عالمی نیٹ ورک کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ المنوکی اب افریقا کے لوگوں کو دہشت زدہ نہیں کرسکے گا اور نہ ہی امریکی مفادات کے خلاف کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرپائے گا۔ انہوں نے اس کارروائی میں تعاون پر نائجیریا حکومت کا شکریہ بھی ادا کیا۔
امریکی محکمہ خارجہ نے 2023 میں ابو بلال المنوکی کو عالمی دہشت گرد قرار دیتے ہوئے اس پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ محکمہ خارجہ کے مطابق وہ داعش کے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف پروونسز کا حصہ تھا، جو دنیا بھر میں تنظیم کو آپریشنل رہنمائی اور مالی معاونت فراہم کرتا ہے۔
نائجیریا میں سیکیورٹی فورسز طویل عرصے سے داعش سے منسلک گروہوں اور شدت پسند تنظیم بوکو حرام کے خلاف کارروائیاں کررہی ہیں۔ ملک کے مختلف علاقوں میں مسلح گروہوں اور شدت پسند تنظیموں کے حملوں کے باعث سیکیورٹی صورتحال بدستور چیلنج بنی ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس امریکا نے نائجیریا پر شدت پسند خطرات سے نمٹنے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کرنے پر زور دیا تھا۔ بعد ازاں امریکا نے نائجیریا میں اپنے سیکڑوں اہلکار بھی تعینات کیے تاکہ مقامی فورسز کی تربیت اور معاونت کی جاسکے۔
تاہم صدر ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ ابو بلال المنوکی کو کس مقام پر اور کس نوعیت کی کارروائی میں نشانہ بنایا گیا۔