اسلام آباد مذاکرات ناکام نہیں ہوئے، امریکی رویے کی وجہ سے مشکل مرحلے میں ہیں: عباس عراقچی

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں جاری مذاکرات ابھی ناکام نہیں ہوئے، تاہم امریکی رویے نے انہیں شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ ان کے مطابق ایران نے جنگ شروع نہیں کی بل کہ ایک خونریز جنگ میں صرف دفاع کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی صورتِ حال ایران کی ذمہ داری نہیں اور یہ راستہ صرف دشمن ممالک کے لیے محدود ہے۔ عراقچی نے مزید کہا کہ واشنگٹن کے متضاد بیانات نے مذاکرات کو پیچیدہ بنایا ہے اور امریکا پر اعتماد ممکن نہیں رہا۔

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں برکس وزرائے خارجہ اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا کی جانب سے ملنے والے متضاد پیغامات نے تہران کو واشنگٹن کے حقیقی ارادوں پر شکوک میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران صرف اسی صورت مذاکرات میں دلچسپی رکھتا ہے جب امریکا سنجیدہ اور واضح مؤقف اختیار کرے۔

عباس عراقچی نے کہا کہ پاکستان کی ثالثی میں جاری مذاکراتی عمل ناکام نہیں ہوا، تاہم اسے مشکلات کا سامنا ہے۔ گزشتہ ہفتے ایران اور امریکا نے ایک دوسرے کی تازہ تجاویز مسترد کر دی تھیں، جس کے بعد مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے امریکا پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کے متضاد بیانات مذاکرات کو پیچیدہ بنا رہے ہیں اور امریکیوں پر اعتبار نہ کرنے کے تمام جواز موجود ہیں۔ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ اس بار سب سے بڑا سوال بھروسے کا ہے، ہمیں ان پر اعتبار نہیں۔

ایرانی وزیرخارجہ نے کہا کہ تہران نے جنگ کا آغاز نہیں کیا بل کہ ایران نے ایک خونریز جنگ میں صرف اپنا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اپنے تمام تر دباؤ اور کارروائیوں کے باوجود 40 روز میں کوئی ہدف حاصل نہیں کرسکا، جب کہ موجودہ مذاکراتی عمل میں اعتماد کا شدید فقدان ہے۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی صورتِ حال کا ذمے دار ایران نہیں، تاہم یہ راستہ صرف دشمن ممالک کے لیے بند ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران بھی آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا چاہتا ہے اور ایران و عمان مشترکہ نظام کے تحت اس اہم بحری گزرگاہ کو سنبھالیں گے۔ تاہم تہران سے حالتِ جنگ میں نہ ہونے والے تمام بحری جہاز اس راستے سے گزر سکتے ہیں، انہیں ایرانی بحریہ کے ساتھ رابطہ رکھنا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران جنگ بندی کو برقرار رکھ کر سفارت کاری کو موقع دینا چاہتا ہے، اگر حالات خراب ہوئے تو دوبارہ محاذ آرائی کے لیے بھی تیار ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان مستقل امن معاہدے میں سب سے بڑی رکاوٹ ایران کا جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز پر تہران کا کنٹرول ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا ہے کہ ایران کے حوالے سے ان کا صبر ختم ہوتا جا رہا ہے، جب کہ انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ گفتگو میں آبنائے ہرمز کھولنے پر زور دیا۔

عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کے کسی معاملے کا عسکری حل موجود نہیں اور یہ حقیقت سب پر واضح ہوچکی ہے۔ ان کے مطابق جنگ سے کچھ حاصل نہ ہونے پر امریکا نے دوبارہ مذاکرات کی پیش کش کی، جب کہ ایران اب بھی سنجیدہ مذاکرات کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ امریکا بھی سنجیدگی دکھائے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کبھی بھی ایٹمی ہتھیار بنانا نہیں چاہتا تھا اور اس کا نیوکلیئر پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ ان کے مطابق ایران جے سی پی او اے پر مکمل عملدرآمد کررہا تھا اور برسوں سے امریکا کی ظالمانہ پابندیوں کا مقابلہ بھی کررہا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کسی بھی دباؤ یا کارروائی کی مزاحمت کرے گا اور جو اہداف جنگ سے حاصل نہ ہوسکے، وہ مذاکرات سے بھی حاصل نہیں کیے جاسکتے۔

بھارت سے متعلق گفتگو میں عباس عراقچی نے کہا کہ نئی دہلی کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ایران کے ساتھ کس نوعیت کے تعلقات چاہتا ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ ایک پڑوسی ملک نے امریکا اور اسرائیل کو ایران پر حملوں کے لیے فضائی حدود اور اڈے فراہم کیے، تاہم اس ملک کا نام نہیں لیا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles